میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۹
میں ڈالنے والی چیز کنارے سے ڈالی جاتی ہے اور اس کو ہاتھ سے دھکیلنا پڑتا ہے۔ اس بنا پر یہ خطرہ رہتا ہے کہ ہاتھ اس کے اندر چلا جائے ۔ مگر یہ پرانا طریقہ ہے۔ باہر کے ملکوں میں اب ایسے تھریشر بنے گئے ہیں جن میں کٹی ہوئی فصل کے گھٹے بنا کر اوپر سے ڈال دیتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے آٹا پیسنے والی مشین میں غلہ اوپر سے ڈال دیا جاتا ہے ۔ اس دوسری قسم کے تھریشر میں یہ امکان ہی نہیں کہ ہاتھ کو مشین پکڑلے ۔
ہر سال اخباروں میں تھریشر سے ہاتھ کٹنے کی خبریں چھپتی ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ ہندوستانی مشینوں کا طرز ابھی تک بدلا نہیں گیا۔
ہم لوگ بستی میں چل رہے تھے کہ ایک عورت گود میں ایک بچہ لیے ہوئے سامنے آئی ۔ اس نے مولانا عبد الرحيم صاحب بڑیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : میری بہن کو خون کٹ رہا ہے ، اس کو ٹکس بنادے ( میری لڑکی کو خون کی پیچش ہورہی ہے، اس کے لیے تعویذ لکھ دو ) میوات کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی جہالت ہے۔ یہاں کے بیشتر لوگ ناخوانده یا نیم خوانده ہیں۔ اس کی وجہ سے یہاں کی زندگی میں رسوم اور توہمات کا اتنا غلبہ ہے کہ اس کے نیچے میوؤں کی پوری زندگی دب کر رہ گئی ہے۔ خاص طور پر عورتیں تو بالکل ہی ان پڑھ ہیں۔ شاذ و نادر ہی ایسی عورتیں ملیں گی جو ایک خط بھی لکھ سکتی ہوں ۔ علم کی اہمیت زندگی میں جتنی زیادہ ہے؛ میوؤں کے یہاں اس کی اہمیت اتنی ہی کم نظر آتی ہے۔
گپیاڑہ قصبہ کی تقریبا تمام دکانیں دوسری اقوام کی ہیں۔ مسلمانوں کی کوئی ایک بھی قابل ذکر دوکان نہیں۔ صبح کے وقت میں قصبہ کے اندر سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ دکاندار اپنی دکان کے سامنے بیٹھے ہوئے ہندی اخبار پڑھ رہے ہیں۔ جب کہ میوؤں کے لیے اخبار پڑھنا ابھی تک ایسا ہی ہے جیسے چاند پر سفر کرنا ۔ اسی بے علمی کی وجہ سے میو تجار توں میں داخل نہ ہو سکے اور زراعت ( زمیندارہ ) جس میں ان کے تمام مرد و عورت اور چھوٹے بڑے لگے رہتے ہیں، ان میں بھی وہ زیادہ ترقی نہ کر سکے۔ تاہم پچھلے اسفار کے مقابلہ میں اس بار مجھے کئی میو زمیندار کے یہاں ٹریکٹر اور ٹیوب ویل نظر آیا جو کہ پہلے نایاب تھا۔ میو ترقی کر رہے ہیں۔ مگر اس کی رفتار اتنی کم ہے کہ خورد بینی مشاہدہ کے ذریعہ ہی اس کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues