میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰
دیکھا جا سکتا ہے۔
پورے میوات میں سٹرک اور بجلی کی وجہ سے کام کی نئی صورتیں پیدا ہوئی ہیں۔ بہت سے مقامات جہاں پہلے ویرانہ تھا۔ لوگ ان کو بھوت کی جگہ سمجھتے تھے، وہاں اب پر رونق بازار بن گئے ہیں۔ مگر ان میں میووں کا کوئی قابل مشاہدہ حصہ نہیں ۔
میوات کے دیہاتوں کا نقشہ اب بھی تقریباً وہی ہے جو ۷۰ سال پہلے تھا۔ اونچے نیچے راستے، مٹی کی دیواروں کے اوپر چھپر۔ ہم ایک میو کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک طرف سرسوں کے ڈنٹھل سے کھانا پک رہا ہے۔ دوسری طرف بیل بندھے ہوئے بول و براز کر رہے ہیں۔ ایک کنارے دو عورتیں ”مشین“ چلا کر چارہ کاٹ رہی ہیں۔ غرض رہائش سے لے کر گھر ہستی تک جتنے لوازم ہیں، سب ایک غیر منصوبہ بند احاطہ کے اندر موجود تھے۔ اور اس کا نام مکان تھا۔ آپ کو ایسے میو ملیں گے جن کے گھروں میں بجلی کے بلب لٹک رہے ہوں گے۔ مگر بلب روشن ہو کر جب چاروں طرف کے ماحول کو دکھائے گا تو آپ سوچیں گے کہ وہ یہاں شاید اس لیے روشن ہوا ہے کہ آپ کو بتائے کہ میو لوگ دور جدید کے عین وسط میں بھی دور قدیم کی زندگی گزار رہے ہیں ۔
میوات میں آپ سنیں گے کہ فلاں مسلمان عورت کا نام ”بسکر“ ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ کسی میو کے یہاں جب مسلسل کئی لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں تو وہ اپنی آخری لڑکی کا نام بسکر رکھ دیتا ہے۔ یعنی اے خدا، اب بس کر، اور مزید لڑکی نہ پیدا کر۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر لڑکی کا نام ” بس کر “ رکھ دیا تو اس کے بعد یہ سلسلہ بس ہو جائے گا اور پھر جو اولاد پیدا ہوگی وہ نرینہ اولاد ہوگی ۔ یہ وہی ذہن ہے جس کے تحت مہذب قسم کے لوگ اپنی لڑکی کا نام بشریٰ رکھ دیتے ہیں ۔
قریبی مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ ایک شخص نے پوچھا: کون صاحب اذان دے رہے ہیں۔ جواب دینے والے نے کہا ”پلیٹو“۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں کثرت سے اس طرح کے عجیب و غریب نام ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ تسمیہ مجھے یہ بتائی گئی کہ میووں میں یہ رواج ہے کہ ایک لڑکا مر جائے، اس کے بعد ولادت ہو اور دوبارہ لڑکا پیدا ہو تو ایسے لڑکے کا نام
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues