Al-Risala · October 1988 · page 41

میوات کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۱

پٹیا یا پلیٹر رکھ دیتے ہیں ۔ یعنی بدلہ ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا نے دوسرا لڑکا کا بدلہ میں دیدیا ۔ اسی طرح اور بھی بہت سے عجیب عجیب نام سنائی دیتے ۔ مثلاً یہاں تین بھائی ہیں جن کے نام یہ ہیں : سکاری ، لنگاری ، پیکاری ۔ وغیرہ ایک مقام پر ہماری بس میں میواتی عورتوں کا ایک جھنڈ سوار ہوا ۔ بتانے والے نے بتایا کہ یہ لوگ ’’ فاتحہ خوانی ‘‘ میں شرکت کر کے آرہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میوات میں رسموں کا رواج بہت ہے ، اور اب اس میں ایک مادی پہلو بھی شامل ہو گیا ہے ۔ اس نے پرانی رسموں میں نئی طاقت عطا کر دی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ مثلاً موت کے بعد فاتحہ کرنا ۔ کچھ ’’ دیو بندی ‘‘ حضرات نے فاتحہ کو ختم کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔ میو لوگ کہتے ہیں کہ ہم کیا کریں ۔ ہم خود ان رسوم کو پسند نہیں کرتے ۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ جب ایک موت ہو جاتی ہے تو مہینوں تک رشتہ دار لوگ تعزیت کے لیے آتے رہتے ہیں اور مہمان داری اور خاطر تواضع کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ فاتحہ کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ ایک تاریخ کو سب لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور ایک ہی دن دے کر یا کھلا پلا کر چھٹی ہو جاتی ہے ۔

تعزیت اور پر سہ کی موجودہ رسم خود قابلِ ترک ہے ۔ مگر ایک قابل ترک کو ترک نہ کرنے کے لیے ایک اور قابل ترک کو اختیار کرنا پڑا ۔

میوات میں کافی ذہین لوگ پیدا ہوئے ہیں ، اگر چہ بے علمی کی وجہ سے ان کی ذہانت اپنے لیے کوئی بڑا استعمال نہ پاسکی ۔ اس کا اندازہ یہاں کی کہاوتوں اور اشعاروں سے ہوتا ہے جو کسی نے کہے تھے اور اب وہ عوام میں رائج ہیں ۔ مثلاً کسی قدیم میو شاعر کا ایک شعر یہ ہے : دھنمت کے کانٹو لگے سبھی لگاواں ہات نر دھن کے کانٹو لگے کوئی نہ پوچھے بات یعنی دولت مند کو کانٹا چبھ جائے تو ہر ایک اس کا حال پوچھتا ہے ، غریب آدمی کو کانٹا چبھ جائے تو کوئی اس کا حال دریافت نہیں کرتا ۔ ایک صاحب نے یہ شعر بتاتے ہوئے کہا : آج یہ حال ہے کہ بڑا آدمی ہے تو اس کے کھلانے پلانے میں زبردست اہتمام ہوگا ، اور غریب آدمی کو صرف معمولی کھانا کھلایا جائے گا ۔ لڑکی امیر کے گھر جارہی ہے تو بہت زیادہ جہیز دیا جائے گا ۔ اور اگر لڑکی غریب کے گھر جارہی ہے تو معمولی جہیز دے کر رخصت کر دیا جائے گا ۔ حتی کہ کسی مدرسہ میں شاندار

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page