Al-Risala · October 1988 · page 42

میوات کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲

عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں تو اس کو خوب چندہ ملے گا ، اور کوئی مدرسہ چھپروں میں ہو تو اس کو کوئی چندہ دینے والا نہیں ۔ یہی حال زندگی کے تمام معاملات کا ہے ۔

میوات میں ایک مثل ہے کہ دو آدمیوں نے طے کہ وہ مل کر گنا بو ئیں گے اور جب گنا تیار ہو جائے گا تو اس کو توڑیں گے ۔ اب ایک شخص نے کہا کہ " میں گنا توڑوں گا کڑاک سے "۔ دوسرے شخص نے کہا : " میں بھی توڑوں گا کڑاک سے "۔ یہ سن کر پہلے شخص نے کہا کہ میں نے تو ایک گنا توڑا استھا ، تم نے دو توڑلیے ۔ اس پر تکرار ہوئی ، یہاں تک کہ دونوں آپس میں لڑگئے ۔ یہ مثل میووں کی کہانی بھی ہے اور عام مسلمانوں کی کہانی بھی ۔ اس وقت تمام مسلمانوں کا حال یہی ہے کہ کرنے کا کام تو کوئی نہیں کرتا ۔ البتہ کیا کیا کام کرنا ہے ، اس پر خوب بحثیں ہورہی ہیں ۔ گویا گنے کی فصل تو اگائی نہیں گئی ، اور گنے کی حصہ داری پر لڑائیاں جاری ہیں ۔ بحث میں ہر آدمی آگے ہے ، مگر عمل میں ہر آدمی پیچھے ۔

گلپاڑہ میں ایک میو حاجی گل خاں نام کے تھے ۔ ۱۹۸۷ میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ اس سے پہلے ان سے میری ملاقات ہو چکی ہے ۔ وہ نہایت سنجیدہ اور نیک آدمی تھے ۔ موجودہ سفر میں ان کے صاحبزادے فیروز خاں سے ملاقات ہوئی ۔ اسی کے ساتھ حاجی صاحب مرحوم کے بھتیجے (ملھو) کے لڑکے فجر الدین عرف فجر و بھی ملے ۔ یہ لوگ اپنی سادگی ، خاموش طبعی اور دینی مزاج کے معاملہ میں حاجی گل خاں مرحوم کی تصویر ہیں ۔

گلپاڑہ سے رسول پور تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلہ پر اندر کی طرف ہے ۔ یہاں سڑک نہیں ۔ میں اندرون میوات کا نقشہ دیکھنے کے لیے یہاں جانا چاہتا تھا ۔ یہ فاصلہ ٹریکٹر کے ذریعہ طے کیا۔ چونکہ اس موسم میں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں ۔ اس لیے سارا راستہ گرد کی دلدل بنا ہوا تھا۔ ٹریکٹر کو فیروز خاں اور فخرالدین چلا رہے تھے ۔ وہ ایک پر شور مشین کے خاموش ڈرائیور تھے ۔ یہ سفر اس طرح طے ہوا کہ کپڑے گرد میں اٹ رہے تھے ۔ گدی کے بجائے لوہے پر نشست تھی اور مسلسل ہچکولے اس کے علاوہ تھے ۔

میرا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جس نے کار کی سواری کی ہے اس کو ٹریکٹر کی سواری بھی کرنا چاہیے ۔ اسی طرح ہر شخص جو ٹریکٹر پر بیٹھا ہے اس کو کار پر بیٹھنا چاہیے ۔ ان دونوں سفروں کا ۴۲ الرسائل اکتوبر ۱۹۸۸

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page