میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۳
مقابل ایک عظیم دینی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اتنا مؤثر ہے کہ اس سے زیادہ مؤثر میرے علم میں کوئی دوسری چیز نہیں۔
جس آدمی نے بھی دونوں چیزوں کی سواری کی ہے ، وہ جانتا ہے کہ ٹریکٹر کے ذریعہ اگر سفر کیا جائے تو منزل پر آدمی اس طرح پہنچتا ہے کہ وہ تھک چکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس آدمی جب ایک اچھی کار پر سفر کرتا ہے تو وہ اپنی منزل پر بالکل تر و تازہ اترتا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ کار کے پہیوں کے ساتھ جھٹکے کو سہنے والا پرزہ (Shock absorber) لگا ہوا ہوتا ہے، جب کہ ٹریکٹر کے اندر ایسا پرزہ نہیں ہوتا۔ گویا ٹریکٹر وہ سواری ہے جو اپنے اوپر آنے والے جھٹکوں کو مسافر تک پہنچاتی رہتی ہے ، جب کہ کار وہ سواری ہے جو جھٹکوں کو خود اپنے آپ پر سہہ لیتی ہے ، وہ ان کو مسافر تک پہنچنے نہیں دیتی۔
لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے اکثر غصہ اور انتقام کے جذبات دل کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مومن کو کیا کرنا چاہیے۔ مومن کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس قسم کے تمام نفسیاتی جھٹکوں کو خود اپنے اوپر سہے ، وہ ان کو دوسرے شخص تک نہ جانے دے۔ وہ لوگوں کے درمیان کار کی طرح رہے نہ کہ ٹریکٹر کی طرح۔
رسول پور میں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ عبد الرشید عرف دھوتالی اور عبد الرحیم عرف خردل سیدھے سادے میواتیوں کا مکمل نمونہ نظر آئے۔ کار اور ٹریکٹر کے مذکورہ فرق کو شاید وہ شعوری طور پر نہ جانتے ہوں۔ مگر فطرت کے زور پر عملاً وہ اسی قسم کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حدیث کے الفاظ میں ، ان کے طریقِ زندگی کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچاؤ اور اگر نفع نہ پہنچا سکو تو ان کو اپنے نقصان سے بچاؤ۔
دہلی جیسے شہر میں مشکل ہی سے کبھی آسمان اپنے قدرتی نیلے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کی کھلی فضا میں آسمان اپنے اصل نیلے رنگ میں دکھائی دیا۔ آسمان کا یہ رنگ جو مختلف طبیعی اسباب سے پیدا ہوتا ہے ، اتنا زیادہ جاذب نظر ہے کہ آسمان کے لیے اس سے زیادہ جاذب نظر رنگ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنے آخری معیاری نمونہ پر ہے۔ خواہ ایک گھاس ہو یا ایک شیر یا اور کوئی چیز۔ کسی بھی چیز کا کوئی دوسرا اس
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues