Al-Risala · October 1988 · page 44

میوات کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۴

سے بہتر ماڈل تجویز نہیں کیا جاسکتا ۔ مخلوقات کا معیارِ کمال پر ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کا خالق بھی آخری معیار کمال پر ہے ۔ کامل خالق کے بغیر کامل تخلیق کا وجود ممکن نہیں ۔ نیلے آسمان کے نیچے ابھری ہوئی پہاڑیاں ، ہرے بھرے درخت ، آکسیجن سے بھری ہوئی خالص ہوا فطرت کے اس حسین ماحول میں انسان اپنے آپ کو خدا کے بالمقابل محسوس کرنے لگتا ہے آج کل شہروں کے لوگ اپنے فرصت کے اوقات کو سینما اور ٹیلی ویژن کے ماحول میں گزارتے ہیں ۔ اس کے برعکس انھیں اپنے فرصت کے اوقات کو شہر سے باہر فطرت کے ماحول میں گزارنا چاہیے۔ "ٹیلی وژن" آدمی کو دوبارہ مصنوعاتِ انسانی کی اسی دنیا میں گم کر دیتا ہے جس میں وہ اس سے پہلے گم تھا ۔ اس کے برعکس کھلے ہوئے جغرافیہ کا ماحول آدمی کو مصنوعاتِ خداوندی کی دنیا میں پہنچا دیتا ہے ، وہ دنیا جہاں انسان اور خدا آمنے سامنے ہوجاتے ہیں ۔ جہاں آدمی اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے ۔ جہاں آدمی اپنے رب سے سرگوشیاں کرتا ہے ۔ جہاں وہ ظواہر سے گزر کر حقیقتِ اعلیٰ کو پا لیتا ہے ۔

19 اکتوبر ، 1987 کی صبح کو واپسی ہوئی ۔ گلپاڑہ سے دوبارہ میں بذریعہ بس روانہ ہوا ۔ اور پہاڑی ، بیواں ، فیروز پور ، نوح ، سوہنا ، گڑگاؤں ہوتے ہوئے 12 بجے دن میں دہلی واپس پہنچا ۔

زیرِ طبع کتابیں ۱۔ کاروانِ اسلام ۲۔ نثری تقریریں ۳۔ پیغامِ عمل ۴۔ عقلیاتِ اسلام ۵۔ تجدیدِ دین

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page