Al-Risala · November 1988 · page 14

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴

میرٹھ کا سفر

جہاں تک یاد آتا ہے، "میرٹھ" کا لفظ پہلی بار میرے کان میں اس وقت آیا جب کہ میری عمر ابھی دس سال سے کم تھی ۔ اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵-۱۸۸۷) کے بڑے صاحبزادے اسلام احمد خاں صاحب کی شادی مسٹر عبدالغنی انصاری سابق کمشنر انکم ٹیکس) کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔ یہ خاتون اپنے والد کے ساتھ میرٹھ میں تھیں ۔ ۱۹۳۱ میں ان کے یہاں اکرام احمد خاں صاحب کی پیدائش ہوئی جو اقبال احمد سہیل کے پہلے پوتے ہیں۔ اس پیدائش کی خبر اعظم گڑھ پہنچی تو اقبال احمد سہیل صاحب نے برجستہ یہ شعر کہا :

زہے نصیب یہ دن بعد انتظار آیا پیام عیش کا میرٹھ سے آج تار آیا میرا تعلق اس نسل سے ہے جس نے ابتدائی تعلیم کے زمانہ میں اسماعیل میرٹھی (۱۹۱۷-۱۸۴۴) کی ریڈریں پڑھی ہیں۔ ایک زمانہ میں ابتدائی مدارس میں سب سے زیادہ اسی "اردو ریڈر" کا رواج تھا۔ اس کے بعد ابتدائی اردو نصاب کے لیے بے شمار کتابیں لکھی اور چھاپی گئی ہیں جو آج کل عام طور پر رائج ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ میرٹھ کے مولانا محمد اسماعیل کی ریڈر سے بہتر کتاب اس موضوع پر اب تک نہ لکھی جاسکی۔ میں اپنی ابتدائی زندگی میں جن چیزوں سے متاثر ہوا ان میں مولانا اسماعیل میرٹھی کے مضامین اور اشعار بھی تھے ۔ ان کے جو اشعار مجھ کو ابھی تک یاد ہیں ان میں سے ایک شعر یہ ہے :

جو پتھر پہ پانی پڑے متصل تو گھس جائے بے شبہ پتھر کی سل میرٹھ کے لیے میرا پہلا سفر جنوری 1968 میں ہوا۔ اس سفر کی روداد اسی زمانہ میں الجمعیتہ ویکلی ۹ فروری 1968 میں شائع ہوئی تھی۔ ۲۸-۲۹ جنوری 1968 کو میرٹھ میں ایک مسلم کانفرنس ہوئی ۔ میں اس میں "مشاہد" کے طور پر شریک ہوا تھا۔ اس موقع پر عین جلسہ کے دوران فرقہ وارانہ فساد ہو گیا اور شہر میں کرفیو لگ گیا۔ اس بنا پر کانفرنس صرف ۲۸ جنوری کو ہو سکی۔ کرفیو کی وجہ سے اگلے دن (۲۹ جنوری) کا اجلاس منسوخ کرنا پڑا۔

اس فساد کا سبب سابق کشمیری لیڈر شیخ محمد عبداللہ (۱۹۸۲- ۱۹۰۵) کی اس میں شرکت

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page