میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸
تھی ۔ یہ شیخ عبداللہ کا وہ دور ہے جب ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق مکمل نہیں ہے، اس کے لیے کشمیری عوام سے استصواب رائے کیا جانا چاہیے ۔ اپنے اس موقف کی وجہ سے وہ ہندوستان کے اکثریتی فرقہ کی نظر میں ایک غیر مطلوب شخصیت بنے ہوئے تھے ۔ چنانچہ جب اعلان ہوا کہ وہ میرٹھ آ رہے ہیں تا کہ مسلمانوں کے اجلاس کو خطاب کریں تو اکثریتی فرقہ کے انتہا پسند طبقہ میں اشتعال پیدا ہو گیا جو بالآخر فرقہ وارانہ فساد اور پولیس فائرنگ تک جا پہنچا ۔ شیخ عبد اللہ کو مسلم کانفرنس میں بلانے کا مقصد غالباً یہ تھا کہ ان کے نام پر بڑا مجمع اکٹھا ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ شیخ عبداللہ کا نام سن کر بے شمار مسلمان جلسہ گاہ میں جمع ہو گئے۔ بھیڑ جمع کرنے کی یہ تدبیر آج مسلمانوں میں بہت زیادہ مقبول ہے ۔ مزید یہ کہ اب اس فہرست میں بیرونی شخصیتوں کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ تاہم اس قسم کی بھیڑ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے زہر ہے۔ یہ شخصی یا جماعتی مفاد کی خاطر پوری ملت کے مفاد کو قربان کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس دنیا میں اس سے زیادہ نادان کوئی شخص نہیں جو چپ رہنے کے موقع پر بولے اور اخفار کے موقع پر اعلان کرے ۔
میرٹھ کے لیے میرا دوسرا سفر جون ۱۹۷۹ میں ہوا۔ اس موقع پر وہاں میری چند تقریریں ہوئیں اور مختلف اہل علم سے ملاقاتیں ہوئیں ۔
اس سفر کا ایک واقعہ اللہ اکبر (صفحہ ۹۰) میں درج ہے ۔ ۳ جون ۱۹۷۹ کو میں اور مولانا شکیل احمد قاسمی (صدر مدرس مدرسہ امداد الاسلام) ایک رکشہ پر بیٹھے ہوئے جا رہے تھے۔ ہم صدر بازار کی سڑک سے گزر رہے تھے کہ اچانک ہمارے سامنے کے مکان کا اگلا حصہ دھماکے کے ساتھ سڑک پر گر پڑا۔ ہمارا رکشہ اس مقام سے بمشکل چند گز کے فاصلہ پر تھا۔ یہ مکان اگر چند سیکنڈ بعد گرتا تو یقیناً اس کا پورا ملبہ ہمارے اوپر آ جاتا اور ہم دونوں کا سفر حیات اچانک اسی سڑک پر ختم ہو جاتا ۔ یہ دنیا حادثات کی دنیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو ہر آدمی کسی نہ کسی حادثہ کے عین کنارے کھڑا ہوا ہے۔ آدمی اور اس کی موت کے درمیان صرف چند سیکنڈ کا فاصلہ ہے ۔ ۔ انسان کی زندگی کتنی کم ہے ، مگر بے خبر انسان اس کو کتنا زیادہ سمجھ لیتا ہے ۔ میرٹھ کے لیے میرا تیسرا سفر جون ۱۹۸۴ میں ہوا۔ یہ سفر خاص طور پر میرٹھ کے فساد
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues