Al-Risala · November 1988 · page 20

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰

خزانہ تھا اور نہ ہی دہلی کے دولت مند لوگ ان کو قرض دینے کے لیے تیار تھے۔ ایسی حالت میں اس کا کوئی امکان ہی نہ تھا کہ یہ بغاوت کامیاب ہو۔

دوسری طرف انگریز کے پاس تنظیم بھی تھی اور وسائل بھی۔ اسی کے ساتھ انگریزوں نے جند، پٹیالہ اور آس پاس کی سکھ ریاستوں سے امداد کی اپیل کی۔ سکھ چونکہ اورنگ زیب (۱۷۰۷ء - 1618)کے کے زمانے سے مسلمانوں سے بیزار تھے، وہ فوراً انگریزوں کا ساتھ دینے پر راضی ہو گئے۔ یہ دراصل سکھ ہی تھے جنھوں نے انگریزوں کے ساتھ دہلی پر حملہ آور ہو کر لال قلعہ پر انگریزوں کو قبضہ دلوایا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (جلد ۱۹۸۸) نے لکھا ہے کہ جب ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی بغاوت ہوئی تو پنجاب کا صوبہ انگریزوں کا وفادار رہا۔ سکھوں نے اس بغاوت کو فرو کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس وفاداری کی بھاری قیمت سکھوں کو ملی۔

اس کے بعد انگریزی حکومت نے سکھوں کو زمینیں دیں۔ انگریزی فوج میں سکھوں کا تناسب بڑھا دیا گیا۔ ایک ضابطہ منظور کیا گیا جس کے تحت سکھ فوجیوں کو یہ آزادی تھی کہ وہ خالصہ روایات پر عمل کر سکیں۔ پنجاب میں نہروں کا وسیع نظام قائم کیا گیا جس کے نتیجہ میں سکھوں کی ریاست پنجاب میں ایسی خوش حالی آئی جو اب تک اس علاقہ میں دیکھی نہیں گئی تھی۔ سکھوں کے ساتھ انگریزوں کا معاملہ نہایت فیاضانہ رہا۔ پنجاب میں یہ حال ہوا کہ انیسویں صدی کے خاتمہ پر اگرچہ سکھوں کی تعداد صرف ۱۲ فی صد تھی مگر وہ صوبہ کی مال گزاری کا ۲۵ فی صد حصہ ادا کر رہے تھے۔ اور مال گزاری اور پانی کا ٹیکس ملا کر سر کاری مالیہ میں ان کا حصہ ۴۰ فی صد تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے وقت برطانوی فوج میں سکھوں کی تعداد ۲۰ فی صد تھی (جلد ۱۶، صفحہ ۷۴۵ )

۱۸۵۷ء میں جو واقعہ میرٹھ میں پیش آیا اس میں ایک پہلو شوشہ کا تھا، اور دوسرا پہلو وہ تھا جو حقیقی تھا۔ مسلمان واقعہ کے اصل پہلو پر دھیان نہ دے سکے، وہ شوشہ والی بات میں الجھ کر رہ گئے ۔

ابتدائی زمانہ میں بندوقیں اور رائفلیں غیر توڑے دار ہوتی تھیں ۔ ان کو منہ کی طرف سے بھری جانے والی (Muzzle-loader) رائفل کہا جاتا تھا۔ اس طریقہ میں گولی کو رائفل کی نالی کے آخری سرے سے ڈال کر گز کے ذریعہ اندر داخل کیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ دشوار طلب تھا اور اس میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page