Al-Risala · November 1988 · page 21

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱

تیز رفتار فائرنگ ممکن نہ تھی۔ انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں پہلی بار وہ بندوقیں اور رائفلیں بنائی گئیں جن کو توڑنے دار (Breech-loader) رائفل کہا جاتا ہے۔ ان رائفلوں میں کارتوس استعمال ہوتے تھے جو کندا اور نالی کے درمیان رائفل کو توڑ کر بھرے جاتے تھے ۔ ان رائفلوں کو عام طور پر انفیلڈ رائفل (Enfield rifle) کہا جاتا ہے۔

یہ رائفل کی دنیا میں ایک انقلابی واقعہ تھا۔ اس وقت دہلی کی سلطنت قائم تھی۔ ملک میں متعدد مسلم ریاستیں موجود تھیں۔ مگر کسی نے بھی یہ غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ اس نئی دریافت کو سمجھا جائے جو مشرق اور مغرب کے درمیان فوجی توازن کو توڑ دینے کے ہم معنی ہے۔ البتہ ایک معمولی سی بات پر ایک ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا جس کا بدترین خمیازہ سب سے زیادہ خود مسلمانوں کے حصہ میں آیا۔ انفیلڈ رائفل میں ابتداء جو کار تو س استعمال ہوتے تھے ان میں برائے ضرورت گریز (Grease) لگی ہوئی ہوتی تھی۔ یہ گریز حیوانی چربی سے تیار کی گئی تھی ۔ ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے پہلے انھیں کھولنا پڑتا تھا۔ اس کی ایک آسان صورت (نہ کہ واحد صورت) یہ تھی کہ ان کو دانت سے کاٹ کر کھولا جائے ۔ اس طرح لوگوں کو ایک شوشہ مل گیا۔ یہ مشہور کیا گیا کہ یہ گریز سور اور گائے کی چربی سے بنائی گئی ہے اور ان کو فوج میں اس لیے رائج کیا گیا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو بے دین (ادھرم) بنا دیا جائے۔ اب فوجیوں کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ اپنے دھرم اور مذہب کو بچانے کے لیے بغاو ت کر دیں۔

کارتوس کے بارہ میں مذکورہ افواہ کتنی سخت ثابت ہوئی ، اس کا ذکر مسٹر اچیسن (Atchison) نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ اس آتش گیر مادہ پر کارتوس کی مبالغہ آمیز کہانی اس طرح گری جیسے سوکھی لکڑی پر آگ کی چنگاری گرے ، اور پورا ملک ستلج سے لے کر نرمدا تک جل اٹھا :

On this inflammable material, the too true story of the cartridges fell as a spark on dry timber, and the whole country from the Sutlej to the Narmada was ablaze. غور کیجیے تو اسی ایک واقعہ میں ملت کی پچھلے ڈیڑھ سو سال کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ اس مدت میں مسلمانوں نے لاتعداد طوفانی تحریکیں چلائیں۔ مگر سب کا خلاصہ یہ تھا کہ لوگوں کو شوشہ والا

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page