میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲
پہلو تو مبالغہ کے ساتھ نظر آیا۔ مگر واقعہ کا جو اصلی اور حقیقی پہلو تھا اس کو دیکھنے سے وہ صد فی صد قاصر رہے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بر بادی کی واحد وجہ ان کے اصاغر و اکابر کی یہی غفلت ہے نہ کہ سازش کی وہ کہانیاں جو ہم نے بطور خود گھڑ رکھی ہیں تاکہ اپنی بر بادی کی ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال سکیں ۔
میرٹھ کے فسادات کے بارہ میں اردو اور انگریزی اخبارات میں بہت کچھ پڑھ چکا تھا۔ اب میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود وہاں جاؤں، واقعات کو اپنی آنکھ سے دیکھوں اور لوگوں سے براہ راست معلومات حاصل کروں۔
۲۸ جون ۱۹۸۸ء کی صبح کو میں ساڑھے تین بجے بستر سے اٹھ گیا۔ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ پہلی رکعت میں سورہ والضحیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ الم نشرح کی تلاوت کی ۔ نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو میری زبان سے نکلا : خدایا ، میرے اس سفر کو اپنی مرضی کا سفر بنا دیجئے۔ یہی احساس لے کر میرٹھ کے لئے روانہ ہوا۔ راستہ میں بھی یہی دعائیں نکلتی رہیں کہ میرا یہ سفر میرے لئے سفر حق بن جائے ۔ ۲۸ جون کی صبح کو میں دہلی سے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ مزید حسب ذیل افراد تھے : رئیس الاسلام میرٹھی، ایم اے، ایل ایل بی (پیدائش ۱۹۴۸)
محفوظ علی خاں، ایم اے (پیدائش ۱۹۵۴)
ڈاکٹر ثانی اثنین خاں (پیدائش ۱۹۵۹)
ڈیڑھ گھنٹہ جی ٹی روڈ پر سفر کرنے کے بعد، ہم منزل پر پہنچے ۔ " یہ میرٹھ ہے " میرے ساتھی نے کہا اب دونوں طرف شخصیتیں نظر آنے لگیں۔ ہم کئی میل تک میرٹھ کے اندر چلتے رہے۔ مگر وہ فساد زدہ میرٹھ نظر نہیں آیا جس کی تصویریں اخباروں میں دیکھی تھیں ۔ یہاں تک کہ ہم ان علاقوں میں پہنچے جو فساد کے دوران جلائے اور پھونکے گئے تھے ۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ بڑی بڑی سرکاری عمارتیں میرٹھ آتی ہیں مگر وہ اس سے حقیقی تاثر لئے بغیر واپس چلی جاتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فساد زدہ حصہ کمیت کے اعتبار سے کل میرٹھ کا بہت تھوڑا حصہ ہے ۔ اب ایک شخص اگر ہیلی کاپٹر سے آئے اور مجموعی میرٹھ پر طائرانہ نظر ڈال کر چلا جائے تو وہ اپنے مشاہدہ کی نسبت سے اصل واقعہ کا اتنا کم تاثر لے گا کہ واپس پہنچتے پہنچتے وہ اس کے ذہن میں ایک دھندلی یاد سے زیادہ باقی نہ رہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues