Al-Risala · November 1988 · page 23

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۳

اخباری میرٹھ اور ہیلی کا پٹر والے میرٹھ میں کتنا زیادہ فرق ہے۔

میرٹھ پہنچ کر میں نے ان مقامات کو دیکھا اپریل اور مئی کے فسادات میں متاثر ہوئے ہیں۔ شہر کے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کیں، جن میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ عوام بھی تھے اور اعلیٰ مناصب کے لوگ بھی۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ میرٹھ میں جو کچھ ہوا اس کی رودادیں اردو اور انگریزی اخبارات میں کافی تفصیل سے پڑھ چکا ہوں۔ یہاں میں نے اپنی آنکھوں سے بھی ان کو دیکھ لیا ہے۔ اسی طرح "کیا ہوا" کے بارہ میں میں کافی جان چکا ہوں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے "کیوں ہوا" کے بارہ میں بتائیں۔ مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ تمام جاننے والے یہی بات نہیں جانتے، یہاں کے لوگ بس "کیا ہوا" کو جانتے ہیں اور باہر سے آنے والے لوگ بھی کیا ہوا کو دیکھ کر چلے جاتے ہیں۔ "کیوں ہوا" سے نہ مقامی لوگوں کو دل چسپی ہے اور نہ باہر سے آنے والوں کو۔

میرٹھ کی کہانی اجودھیا کی بابری مسجد کی کہانی سے شروع ہوتی ہے۔ بابری مسجد رام جنم بھومی جھگڑا آزادی (۱۹۴۷) کے پہلے سے چلا آ رہا تھا۔ عدالت نے ایک حکم کے تحت ۱۹۴۹ میں اس میں تالا لگا دیا گیا۔ ابھی مقدمہ چل رہا تھا کہ ضلع جج فیض آباد کے حکم سے پولیس نے یکم فروری ۱۹۸۶ کو بابری مسجد کا تالا کھول دیا۔ اس کے بعد مسجد عملاً ہندو فرقہ کے قبضہ میں چلی گئی ۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ مسلمان اس معاملہ کو عدالت اور گفت و شنید کے دائرہ میں رکھ کر اپنی مہم جاری رکھیں ۔ مگر مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر نہایت بے تابانہ طور پر اس کو سڑک پر لے آئے۔ مسلم اخبارات نے دھواں دھار مضامین شائع کرنا شروع کر دیا۔ سارے ملک میں پرجوش تقریریں کرکے مسلمانوں کے خون کو اس مسئلہ پر گرما دیا گیا۔ اس کے بعد بابری مسجد ایکشن کمیٹی" کے فیصلہ کے مطابق اور ۲۶ جنوری ۱۹۸۷ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ بعد کو اسے واپس لے لیا گیا اور اس کے بجائے ۳۰ مارچ ۱۹۸۷ کو دہلی میں بابری مسجد کے نام پر مسلمانوں کی احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ دہلی اور اطراف دہلی کے تقریباً ۵ لاکھ مسلمان بوٹ کلب (نئی دہلی) میں جمع ہوئے ۔ وہاں مسلم لیڈروں نے ان کے سامنے دھواں دھار تقریریں کیں۔ اس کے بعد مسلمانوں میں جو جوش و خروش کا ایک لاوا ابل پڑا۔ وہ ریلی سے اس طرح لوٹے جیسے انھوں نے ہندوستان کو دوبارہ فتح کر ڈالا ہو۔ یہ ریلی یقینی طور پر محض ایک وقتی بھڑ تھی ۔ مگر نادان مسلمانوں نے اس کو "بے نظیر اتحاد" کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page