میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴
ہم معنی سمجھ لیا۔ اس کے لئے حد درجہ مبالغہ آمیز الفاظ بولے جانے لگے۔ ریلی کے موقع پر مسلم لیڈروں نے جو باتیں کہیں یا اس کے بعد مسلم اخباروں نے جو سرخیاں لگائیں، ان میں سے چند یہ ہیں: مممسلمانوں کے بے مثال مظاہرہ سے انڈیا گیٹ لرز :
۵ لاکھ فرزندِ ان توحید کا اٹھا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر: مسلمانوں کی تاریخ کا نیا موڑ اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے پارلیمنٹ کے درو دیوار تھرا اٹھے بابری مسجد ایشو نے مسلمانوں کو متحد کر کے انھیں ناقابل تسخیر بنا دیا ہے اب ہمیں طاقت کے بل پر اپنے مطالبات کو منوانا ہے ہندوستان کا مسلمان جاگ اٹھا ، اب وہ کسی سے دبنے والا نہیں انصاف نہ ہوا تو ہم دشمنانِ اسلام کے قلعہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ حکومت کے رویہ نے سوئے ہوئے شیروں کو جگا دیا "بابری مسجد واپس کرو" کے نعروں کی زد میں آکر فضا کے ہیلی کاپٹر اپنا توازن کھو بیٹھے مسلمانوں نے اپنی طاقت کو از سرِ نو دریافت کر لیا ہے۔
نام نہاد مسلم لیڈروں نے بابری مسجد کے نام پر فضا میں جو اشتعال پیدا کیا اسی کا براہ راست نتیجہ میرٹھ کا فساد تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فساد کی مکمل ذمہ داری مسلم لیڈروں پر ہے، مگر انھوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اس کو ہندو فرقہ پرستوں یا انتظامیہ کے سر پر ڈال دیا ہے۔ بابری مسجد کی ریلی میں زیادہ تر یوپی کے لوگ تھے۔ خاص طور پر میرٹھ کے لوگ اس میں بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ ذہنی طور پر تو میرٹھ کے تقریباً تمام سلمان اس مہم میں شریک تھے۔ میرٹھ کے ایک سلمان نے کہا کہ اگر سواری کی رکاوٹیں نہ ہوتیں تو میرٹھ سے کم از کم پچاس ہزار اور مسلمان اس ریلی میں جاتے ۔ ایک ہندو نے کہا کہ ”میرٹھ کا مسلمان بابری مسجد کے معاملے میں بہت زیادہ سہیوگ دیتا ہے۔ “ ان مسلمانوں نے ریلی کو دیکھ کر اپنی طاقت کا احمقانہ حد تک غلط اندازہ لگایا۔ بوٹ کلب پر مسلمانوں کی بھیڑ اور مسلم مقررین کی پرجوش تقریروں اور مسلم اخبارات کی مبالغہ آمیز سرخیوں سے وہ بھڑک اٹھے۔ ریلی کے بعد مسلمان اس احساس کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹے کہ اب انھیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues