Al-Risala · November 1988 · page 25

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵

دب کر نہیں رہنا ہے بلکہ طاقت کے زور پر اپنے حقوق کو منوانا ہے۔ اس کے بعد مسلمان کھلم کھلا سکھوں والا طریقہ اختیار کرنے کی بات کرنے لگے۔ حتیٰ کہ میرٹھ میں ایک شخص پیدا ہو گیا جو فخر کے ساتھ کہتا تھا کہ میں مسلمانوں کا بھنڈراں والا ہوں۔

ایم جے اکبر ٹیلی گراف) نے لکھا ہے کہ میرٹھ میں ایک 40 سالہ مسلمان نے اپنے بارہ میں یہ مشہور کیا کہ وہ مسلمانوں کا بھنڈراں والا ہے۔ اسی نام سے پکارنے میں اس کو ذہنی تسکین ملتی ہے۔ جب بابری مسجد کا تنازعہ شروع ہوا تو اس شخص نے مسلم نوجوانوں کو "مارنا ہے یا مر جانا ہے" کے نعروں پر منظم کرنا شروع کیا۔ اکثر اوقات وہ اپنی تقریروں میں یہ اعلان کرتا رہتا تھا کہ "ایک کر ور سردار ہیں سوااور ان کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے، پھر راجیو گاندھی ۲۰ کر ور مسلمانوں کو کس طرح سنبھالیں گے۔"

اشتعال انگیزی کی یہ سیاست بوٹ کلب نئی دہلی پر بابری مسجد کی ریلی سے شروع ہوئی۔ اس ریلی میں یہاں تک کہا گیا کہ فریق ثانی کو ہندوستانی مسلمانوں کے غصہ کے نتائج سے باخبر رہنا ہوگا۔ میرٹھ میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کو مسلمانوں کے لیڈر پولیس اور حکومت کے خانہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وحشیانہ معاملہ تمام کا تمام خود مسلم لیڈروں کے خانہ میں جاتا ہے۔ کیوں کہ انھیں کی بد تدبیری کا یہ نتیجہ تھا جو مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔ بابری مسجد کے نام پر انھوں نے اشتعال انگیز سیاست کا جو طریقہ اختیار کیا، یہ صرف اس کا رد عمل تھا، اس کے اور کچھ نہیں۔ مسلم لیڈروں نے فریق ثانی کو بھڑکانے کا رمسلم عوام کے اوپر گولی چلوا دی۔ اور جب خود گولی کھانے کا وقت آیا تو وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئے میرٹھ کے مصیبت زدگان میں بڑی تعداد ان مزدوروں کی تھی جو بہار سے تعلق رکھتے تھے۔ بہار کے بہت سے مزدور جن کو محلہ المیان سے پکڑ کر فتح گڑھ جیل لے جایا گیا تھا، ان کے بیان کے مطابق پولیس نے تھانہ میں ان لوگوں پر لاٹھیاں برسائیں۔ جیل کے اندر قیدیوں سے بھی انھیں پٹوایا گیا۔ اس وحشیانہ مار پیٹ میں کئی آدمیوں کی موت واقع ہو گئی۔ ان بہاری حضرات نے بتایا کہ پولیس انھیں مارتے ہوئے یہ کہتی تھی :

لو! بابری مسجد، بلاؤ اپنے لیڈروں کو، دیکھیں تمہیں کون بچاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page