Al-Risala · November 1988 · page 26

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶

یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ کیا چیز تھی جس نے انھیں غضب ناک بنایا اور وہ وحشیانہ انتقام پر اتر آئے (نقیب ۲۰ جولائی 1987)

ان اسباب کے نتیجہ میں شمالی ہند، خاص طور سے یوپی میں سخت فرقہ وارانہ تناؤ کی فضا پیدا ہوگئی۔ مسلمانوں نے (اور اسی طرح ہندوؤں نے بھی) باقاعدہ "تیاریاں" شروع کر دیں۔ تاکہ موقع آنے پر ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف کارروائی کر سکے۔ اس بارود میں چنگاری لگنے کا پہلا واقعہ ۱۴ ا پریل 1987 کو میرٹھ میں پیش آیا۔

ڈاکٹر ہر پال سنگھ سے ایک انٹرویو میں سوال کیا گیا کہ فساد کی اصل ذمہ داری کس پر ہے۔ انھوں نے جواب دیا " اصل ذمہ دار رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ ہے۔ ایک جانب بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے بھڑ کیلی تقریریں کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف اخبارات میں مسلسل ایسے مضامین چھاپے جاتے ہیں جن میں ماضی میں مسلمانوں کے ذریعہ ہندوؤں پر ظلم و ستم کا رونا رویا جاتا ہے۔ اس سے تناؤ بڑھتا ہے۔ لیکن حکومت روک تھام کے لئے کچھ بھی نہیں کرتی" (افکار ملی یکم جون 1987 صفحہ ۲۲- ۲۱)

مشتاق احمد رام پوری (عمر 70 سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۴ اپریل، ۱۹۸۶ء کویں میرٹھ کے اس جلسہ میں موجود تھا جہاں سے فساد کے پہلے مرحلہ کا آغاز ہوا۔ ان کے بیان کے مطابق جو صورت واقعہ ہے وہ یہ ہے کہ ۱۴ اپریل کو شاہ پیر گیٹ کی سڑک پر مسلمانوں کا جلسہ تھا۔ یہ جلسہ شب برات کے سلسلہ میں منعقد کیا گیا تھا۔ جلسہ گاہ کے سامنے مین سڑک ہے اور اس سڑک کے دوسری طرف ایک چھوٹا سا مندر ہے۔ یہ مندر لو دھوں والی گلی میں ہے۔ لودھے لوگ اس دن مندر میں اپنی کوئی تقریب منا رہے تھے اور ریکارڈ نگ کر رہے تھے۔ اس کی تیز آواز مسلمانوں کے جلسہ تک پہنچ رہی تھی۔

مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ اس ریکارڈنگ سے ان کے جلسہ میں خلل پڑ رہا ہے۔ چنانچہ کچھ مسلم نوجوان وہاں گئے اور ان سے کہا کہ تم اپنا لاؤڈ اسپیکر بند کر دو یا اس کی آواز کم کر دو۔ انھوں نے کہا کہ تم ہی کر لو، ہم کیوں کریں۔ اس پر بات بڑھی۔ مسلمان غصہ میں آگئے۔ انھوں نے لودھوں کے لاؤڈ اسپیکر کو توڑ ڈالا اور انھیں مارنے پیٹنے لگے۔ شور سن کر جلسہ کے اور لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے بھی مارپیٹ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page