میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸
نقصان ہوا ہے ، اس لئے دوبارہ اس کا بدلہ لینا ہے۔
افواہیں اور لیڈروں کی تقریریں اور اخبارات کے سنسنی خیز مضامین جذبات کو بھڑکاتے رہے۔ مئی کے تیسرے ہفتہ میں چند اشتعال انگیز واقعات ہوئے۔ یہاں تک کہ ۸ مئی کو دوسری بار شدید تر انداز میں فساد کا طوفان ابل پڑا۔
دہلی روڈ کے مسٹر سلیم بھارتی (عمر ۵۰ سال) نے دوسرے مرحلہ میں شروع ہونے والے فساد کے بارہ میں بتایا کہ ۱۶ مئی ، 1987 کو چھپی واڑہ میں ایک پٹاخہ (بقول بعض دستی بم) پھٹا۔ یہ پٹاخہ (یا (بم) شیعہ امام باڑہ میں پھٹا تھا۔ مسلمانوں نے کہا کہ یہ پٹا خہ (بم) ہندو کی طرف سے پھینکا گیا ہے۔ ہندوؤں نے کہا کہ یہ خود مسلمانوں کی کارروائی ہے۔ اگلے دن پھر یہی واقعہ ہوا۔ یعنی پٹا خہ (دستی بم) دوبارہ اسی مقام پر پھٹا۔
انھوں نے بتایا کہ اسی چھپی واڑہ میں ایک پراپرٹی ہے جس کا مالک مسلمان ہے اور ہندو اس کا کرایہ دار ہے۔ دونوں میں کرایہ دار اور مالک کا جھگڑا چل رہا تھا۔ کرایہ دار کا چھوٹا بھائی اجے شرما اگلے دن اپنے بھائی سے ملنے کے لئے آیا۔ جب وہ واپس ہوا تو کسی نے اس کو گولی ماردی (ایک روایت ہے کہ یہ گولی مالک مکان نے ماری ، اجے شرما اپنے اسکوٹر پر بھاگا۔ وہ قینچی والان میں پہنچا جو مسلمانوں کا محلہ ہے۔ مسلمانوں نے اس کو خون آلود حالت میں دیکھا تو انھوں نے سمجھا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے امام باڑہ میں دو دن پٹا خہ (یا بم) پھینکا ہے۔ آج بھی وہ اسی طرح پھینک رہا تھا مگر وہ زخمی ہو گیا۔
یہ ایک نازک موقع تھا۔ اس وقت اگر مسلمان اجے شرما کو فرسٹ ایڈ پہنچاتے تو یقیناً میرٹھ کی تاریخ دوسری ہوتی۔ مگر انھوں نے اس کے برعکس عمل کیا۔ انھوں نے زخمی اجے شرما کو پکڑ کر مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ پولیس آگئی اور وہ اجے شرما کو اپنے ساتھ لے گئی۔ مگر اجے شرما اسپتال پہنچ کر مر گیا۔
اجے شرما کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کی صورت میں یہ ہوتا کہ شہر میں مسلمانوں کی شرافت اور انسانیت کی خبر گو نجتی۔ مگر دوسری صورت میں شہر کے اندر مسلمانوں کے ظلم کی خبر گونجی۔ اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر شہر میں سخت تناؤ پھیل گیا۔ اسپتال کے پاس مسلمانوں کے کچھ کھو کے تھے ، ان کو ہندوؤں کے ایک
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues