میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۹
مشتعل ہجوم نے جلا دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے ہندوؤں کی دکانوں پر حملہ کیا۔ آخر میں پولیس آئی اور اس نے وہ سب کچھ کیا جس کی خبریں تفصیل کے ساتھ اخبارات میں آچکی ہیں۔ یہ ناخوشگوار واقعہ ۱۸ مئی ۱۹۸۷ء کو پیش آیا۔
مسٹر بھارتی نے بتایا کہ اس کے بعد گزری بازار میں ایک میٹنگ تھی جس میں مجسٹریٹ اور پولیس افسران شریک تھے۔ مسلمانوں نے اس موقع پر کہا کہ ہمارا محلہ جھگڑا الو محلہ نہیں ہے۔ یہاں کبھی کچھ نہیں ہوا۔ ہم تو امن کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ اس پر ایک پولیس افسر نے کہا: "اے شرما کا قتل کر کے سوچو کہ کو آن تو آپ ہی لوگوں نے کیا ہے؟ " واضح ہو کہ گزری بازار اور قیچی دالان دونوں بالکل ملے ہوئے محلے ہیں۔
اسی روز رات کو سحری کے وقت پولیس محلہ ہاشم پورہ میں داخل ہوگئی۔ وہ گھروں کی تلاشی لے کر ہتھیار برآمد کرنا چاہتی تھی۔ جب یہ خبر پھیلی کہ ہاشم پورہ اور المیان (مسلم محلہ) میں پولیس داخل ہوگئی ہے اور سختیاں کر رہی ہے تو محلے کے امام نے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر "جہاد" کی تقریر شروع کر دی۔ "حضرات ! پی اے سی نے ہم پر حملہ کر دیا ہے۔ آپ لوگ مقابلہ کے لئے اپنے گھروں سے باہر آ جائیں۔ " اس قسم کی تقریر پرول کے نتیجہ میں آس پاس کی آبادیوں سے بہت سے مسلمان نکل آئے۔ انہوں نے ہندو علاقوں پر حملہ کر دیا۔ امام نے پولیس سے "دفاع" کے لئے پکار اٹھا، انہوں نے غیر متعلق ہندوؤں پر ہجوم" کر دیا۔ یہاں انہوں نے ہندوؤں کی گاڑیاں جلائیں۔ ان کی دکانوں اور شوروموں پر حملے کئے باپو روڈ اور پلو کھڑی پر ہندوؤں کی بہت سی فیکٹریاں تباہ کر دیں۔ اس جنون کے وقت انہوں نے شہر کے ایک نہایت قیمتی شخص ڈاکٹر پر بھات سنگھ پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ وہ وہیں سڑک پر مرگئے ۔ اس دوران افواہ پھیلی کہ مسلمانوں نے اسٹیٹ بنک کالونی (ایک ہندو آبادی) کو تباہ کر دیا ہے۔ اس سے ہندوؤں میں مزید اشتعال پیدا ہوا۔ انہوں نے شاستری نگر وغیرہ میں مسلمانوں کے ساتھ وہی کام شدید تر انداز میں کرنا شروع کیا جو مسلمانوں نے ہندو علاقہ میں کیا تھا۔
مسٹر پدم روشا (سابق ڈائرکٹر جنرل آف پولیس) کا ایک مضمون انگریزی اخبار
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues