میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰
انڈین ایکسپریس (۳۰ جون ۱۹۸۷ء) میں شائع ہوا ہے۔ یہ ایک بہت منصفانہ مضمون ہے۔ انھوں نے جو کچھ لکھا ہے اس میں سے ایک بات یہ ہے کہ فرقہ وارانہ جھگڑوں میں عملی طور پر سب سے زیادہ دخل دو چیزوں کا رہا ہے۔ ایک جلوس اور دوسرے لاؤڈ اسپیکر۔ جلوس کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے کہ انسانوں کے متحرک ہجوم کو دونوں فریق نہایت آسانی سے مظاہرۂ طاقت کے ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔ یہی معاملہ لاؤڈ اسپیکر کا ہے۔ ایک پر جوش (Show of strength) مقرر کی آواز عام حالات میں صرف اس کے قریبی افراد تک پہنچ سکتی تھی، مگر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اس کی گونج پوری بستی کے لیے چیلنج بن جاتی ہے۔
راقم الحروف کو مسٹر پدم روشا کی بات سے صد فی صد اتفاق ہے۔ میں مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جلوس اور لاؤڈ اسپیکر دونوں کو یک طرفہ طور پر اور رضا کارانہ طور پر بالکل ترک کر دیں۔ اور اگر فریق ثانی جلوس نکالتا ہے تو اس سے تعرض نہ کریں۔ عرب ممالک میں آج یہ دونوں چیزیں مکمل طور پر ممنوع ہو چکی ہیں۔ اور وہاں کے مسلمان، مقامی اور غیر مقامی دونوں، اس ممانعت کو پوری طرح تسلیم کئے ہوئے ہیں۔ یہی طریقہ وہ ہندوستان میں بھی اختیار کر لیں۔ اس کے بعد سارے جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ اور ہمیں وہ وقفہ تعمیر مل جائے گا جس کی آج کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
میرٹھ کے فساد پر جن اخبارات نے براہ راست اور غیر جانبدارانہ رپورٹیں شائع کیں، ان میں سے ایک ممتاز نام ہندی ہفت روزہ "چوتھی دنیا" کا ہے۔ چوتھی دنیا (۳۱ مئی ۱۹۸۷ء) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۲ مئی کو ہاشم پورہ محلہ میں دو بجے دن میں پی اے سی کے پانچ چھ ٹرک پہنچے۔ ان کے ساتھ کچھ ٹرکوں میں فوجی جوان بھی تھے۔ انھوں نے محلہ کی تلاشی لے کر تقریباً ڈیڑھ سو جوانوں کو ٹرک میں بھرا اور پھر لے کر روانہ ہو گئے۔ یہ ٹرک تیزی سے چل کر مراد نگر کے کنارے بہنے والی گنگا نہر کے پل پر رکے۔ تب تک رات کے تقریباً آٹھ بج چکے تھے۔ یہیں ایک ٹرک میں بھرے دو درجن نوجوانوں کو کھڑا کر کے سامنے سے گولی مار دی گئی اور ان کی لاشیں نہر میں پھینک دی گئیں۔ اس کے بعد ٹرک پھر تیز رفتاری کے ساتھ چلے۔ تقریباً ساڑھے نو بجے رات کو مکن پور کے پاس ہنڈن نہر کے پل کے پاس باقی نوجوانوں کو لائن میں کھڑا کر کے گولی ماری گئی اور انھیں نہر
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues