Al-Risala · November 1988 · page 31

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱

میں ڈال دیا گیا ۔ یہ سب ہاشم پورہ کے مزدور مسلمان تھے۔

یہ قتل عام کیوں ہوا ۔ اس کے بارے میں چوتھی دنیا کے نامہ نگار نے میرٹھ جا کر تحقیقات کی تو قتل عام کی وجہ بھی سامنے آگئی ۔ ہوا یہ کہ ۲۱ مئی کو مسلم اکثریتی علاقہ ہاشم پورہ کی ایک گلی سے چلی گولی سے سورج کنڈ کے ایک نوجوان پر بھات کو شک (24 سال) کی موت ہوگئی ۔ پر بھات کو شک شہر کے با اثر شہری اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی یونٹ کی سکریٹری شکنتلا کو شک کا بھانجا تھا۔ گولی چلنے کے اس واقعہ میں شکنتلا کو شک کا بیٹا امیتج بھی زخمی ہوا تھا۔ مرنے والے پر بھات کا ایک بھائی ستیش چندر میرٹھ چھاؤنی میں ہی فوج میں میجر کے عہدے پر ہے۔ جب اسے بھائی کی موت کی اطلاع ملی تو وہ بوکھلا گیا۔ یہاں تک کہ ۲۲ مئی کو میڈیکل کالج میں پوسٹ مارٹم کے لئے رکھی پر بھات کوشک کی لاش کو وہ ملازمین کو ڈرا دھمکا کر بغیر پوسٹ مارٹم کے ہی لے آیا۔ اس کے ساتھ کئی فوجی بھی تھے۔ اسی شام جب مسلمان نوجوانوں کو ٹرکوں میں بھرا گیا تو لوگوں نے میجر ستیش چندر کو بھی وہاں دیکھا تھا۔ اس بات کا شک ہے کہ اس میجر کی اسکیم پر ہی یہ قتل عام کیا گیا بحوالۂ نئی دنیا (۱۵ جون 1987)

میرٹھ کے المیہ میں سب سے بڑا انسانی کردار ڈاکٹر ہر پال سنگھ کا ہے جس کی مثال میرے علم کی حد تک نہ ہندوؤں میں پائی جاتی ہے اور نہ مسلمانوں میں ۔ ڈاکٹر ہر پال سنگھ میرٹھ کے این ایس کالج میں پولیٹیکل سائنس کے استاد ہیں۔

۱۹ مئی 1987 کو صبح سحری کے وقت مسلح پولیس محلہ المیان (میرٹھ) میں داخل ہو گئی۔ اس نے محلہ والوں پر کافی ظلم کیا ۔ اس کی خبر پھیلی تو اس محلہ سے چار فرلانگ دور ہاپوڑ روڈ پر پہرے ہوئے مسلمان نکل آئے۔ انھوں نے انتقامی جذبے کے تحت وہاں کے ہندوؤں کے مکانوں اور دکانوں کو آگ لگانا شروع کر دیا۔ ہاپوڑ روڈ پر ہندوؤں کے تین پٹرول پمپ جلا دیے۔ اور بہت سے دوسرے نقصانات کئے۔

یہ دن کا وقت تھا۔ ڈاکٹر ہر پال سنگھ کے صاحب زادہ ڈاکٹر پر بھات سنگھ اپنی گاڑی ۔ میں بیٹھے ہوئے ہاپوڑ روڈ سے گزرے۔ غصہ میں بھرے ہوئے مسلمانوں نے ڈاکٹر پر بھات سنگھ کو پکڑا۔ ان کی گاڑی کو جلایا اور ان کے اوپر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ ڈاکٹر پر بھات اس وقت

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page