میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۲
ایک مریض کے آپریشن کے لئے اسپتال جارہے تھے، مگر اس حادثہ کے بعد خود ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے اسپتال لے جائی گئی۔
ڈاکٹر ہر پال سنگھ اور ان کے بیٹے دونوں حد درجہ شریف اور انسان دوست آدمی تھے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کی حمایت کرتے تھے۔ ان کی اعلیٰ شرافت کا مزید ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے عزیز بیٹے کی اس درد انگیز ہلاکت پر مسلمانوں کے خلاف کوئی بھی سخت بات نہیں کہی۔ جب وہ اپنے جوان اور اکلوتے بیٹے کی جلی ہوئی ہڈیاں لئے ہوئے گھر واپس آرہے تھے تو راستہ میں انھوں نے ہندوؤں کی بھیڑ دیکھی جو مسلمانوں کے خلاف شدید طور پر پہری ہوئی تھی اور مسلمانوں کو جلانے مارنے پر آمادہ تھی۔ انھوں نے بھیڑ کو منع کیا۔ کسی نے کہا کہ تم ان لوگوں کی طرف داری کر رہے ہو جنہوں نے تمہارے جو ان بیٹے کو بلا سبب مار ڈالا۔ ڈاکٹر ہر پال سنگھ نے جواب دیا: "اگر یہ بھات میرا بیٹا تھا تو تم جس کو جلانے مارنے جارہے ہو وہ بھی تو کسی کا بیٹا ہوگا۔ " ڈاکٹر ہر پال سنگھ کا ایک بیان بے حد قابل غور ہے۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا: "میرا اب تک مسلمانوں کے بارہ میں یہ خیال تھا کہ وہ صرف اپنے دفاع کی لڑائی لڑتے ہیں۔ وہ کسی پر حملہ نہیں کرتے۔ لیکن میرٹھ شہر میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مسلمان نہ جانے کیوں بھڑک اٹھا۔ انھیں کس نے بھڑکایا ہے کہ وہ اس طرح سڑکوں پر نکل آئے اور آگ زنی شروع کردی ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ حالاں کہ اس کام میں پیش پیش غنڈہ اور جرائم پیشہ عناصر ہی تھے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ شریف اور مہذب و معزز لوگ بھی تماشائی بنے رہے۔ انھوں نے روکا نہیں۔ وہ روکتے تو شاید میرا بیٹا بچ جاتا۔ "
میرٹھ کے ڈاکٹر اتول بھٹناگر، ایک نر سنگ ہوم، نہایت شریف اور انسان دوست آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر ۵۰ مسلمانوں کو بچایا جو ۱۸ مئی کو ان کے نرسنگ ہوم میں موجود تھے۔ اس کی قیمت انھیں یہ ملی کہ ان کے ہم قوم انھیں غدار کہہ رہے ہیں اور ان کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر اتول بھٹنا گر نے کہا کہ ۱۸ مئی کی رات کو تقریبا ۱۰ بجے سکھ بیر سنگھ اور اس کا بہنوئی زخمی حالت میں ان کے نرسنگ ہوم میں آئے۔ دونوں کے جسم پر تیزاب اور شیشے کے زخم تھے۔ الرسا لہ نومبر ۱۹۸۸
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues