میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۳
انہوں نے بتا یا کہ ہم آرہے تھے کہ محلہ المیان پر لوگوں کی بھیڑ اکٹھا تھی جس نے ہم پر کانچ کی بوتلوں اور پتھروں سے حملہ کیا اور ہمارے اوپر تیزاب پھینکا۔ ہم بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر یہاں آئے ہیں (افکار جون ۱۹۸۷ء)
میرٹھ میں اور دوسرے مقامات پر بہت سے ہندوؤں نے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر مسلمانوں کو بچایا۔ اس قسم کے تجربات مسلمانوں کے ساتھ بار بار پیش آتے ہیں۔ مگر مسلمان یہ کرتے ہیں کہ جو ہندو ان سے اچھا سلوک کرتا ہے اس کو وہ "فرد" کے طور پر لیتے ہیں اور جو ہندو بر ا سلوک کرتا ہے اس کو وہ پوری کمیونٹی پر پھیلا دیتے ہیں۔
ہم لوگ میاں محمد نگر (دکنتہ روڈ) پر گئے ۔ یہاں کا منظر اتنا بھیانک تھا کہ اس کو نہ قلم بیان کر سکتا ہے اور نہ کیمرہ۔ میاں محمد نگر گاؤں کی مانند ایک بستی تھی: تنگ گلیوں کے دونوں طرف لوگوں نے پچاس گز یا اس سے کم یا زیادہ زمینیں خرید کر چھوٹے چھوٹے پختہ مکان بنائے تھے۔ ان مکانات کی تعداد تقریباً ۲۸۰ تھی۔ یہ لوگ محنت مزدوری کر کے ان میں زندگی گزار رہے تھے۔ اچانک ایک روز پی اے سی کے ساتھ ایک غول آیا جس میں زیادہ ترہری جن تھے۔ ان کے پاس خاص طرح کے کیمیکل تھے۔ وہ گھروں کو لوٹتے اور کیمیکل چھڑک کر آگ لگا دیتے ۔
جب ہم وہاں پہنچے تو یہ منظر تھا کہ مکانات کی دیواریں تو کھڑی ہوئی تھیں مگر چھت سب کی گر چکی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے شدید بمباری سے تمام مکانات ڈھ پڑے ہوں۔ میں نے دیکھا مرد، عورتیں اور بچے اپنے مکان کے کھنڈروں پر بیٹھے ہوئے ہیں جہاں ان کے پاس نہ سایہ کی کوئی جگہ ہے اور نہ کھانے پینے کا یا زندگی کا اور کوئی سامان ۔
میاں محمد نگر کے اس کھنڈر کو دیکھ کر ہم باہر سڑک پر آئے تو ایک پولیس پارٹی اس کے اندر داخل ہو رہی تھی۔ آگے آگے ایک پولیس افسر تھا۔ پیچھے چار سپاہی رائفلیں لئے ہوئے اس کے ساتھ چلے جارہے تھے۔ ان کے داخلہ کا انداز ایسا تھا جیسے فاتح اپنے مفتوح کے علاقہ میں داخل ہو رہا ہو۔ وہ معاوضہ کی فہرست تیار کرنے کے لئے یہاں آئے تھے۔
میرٹھ سے واپسی کے بعد اگلے دن میں نے ہندوستان ٹائمز (۲۹ جون ۱۹۸۷ء) میں مٹرو رومیش بھنڈاری کا مضمون پڑھا۔ مسٹر بھنڈاری فارن سکریٹری کے عہدہ سے ابھی حال میں ریٹائر ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues