میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۴
یہ مضمون سری لنکا کے موجودہ حالات کے بارے میں ہے۔ اس میں انھوں نے ہندوستان کی طرف سے کسی فوجی مداخلت کو خارج از بحث قرار دیا ہے اور تصفیہ بذریعہ ترغیب (Settlement by persuasion) کی وکالت کی ہے۔ میں نے سوچا کہ ہندوستانی سیاست کا یہی تضاد ہے جو ہندوستان کی ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ ملک ”میاں محمد نگر “کے غریبوں پر گولی چلاتا ہے اور جس کو طاقت ور دیکھتا ہے اس کے مقابلہ میں فورا ترغیب (Persuasion) کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ اگر ہمیں اس ملک کو ترقی کی طرف لے جانا ہے تو، ہمیں اپنی قومی زندگی کے اس تضاد کو ختم کرنا ہوگا۔ میرٹھ کی کہانی کا سب سے زیادہ وحشتناک باب وہ ہے جو ملیانہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ملیانہ گویا وسیع تر میرٹھ کا ایک محلہ ہے جو شہر کی بیرونی سمت میں واقع ہے۔ یہاں کی آبادی تقریبا ۲۵ ہزار ہے جس میں انوں کی تعداد سم ہزار بتائی جاتی ہے۔ ۲۳ مئی، 1987 کو دو ٹرک مسلح پولیس آئی اور چھتوں پر چڑھ کر مسلم علاقہ میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے نتیجہ میں ۳۷ مسلمان ہلاک ہوگئے ۔ واقعات بتاتے ہیں کہ یہاں کے ہندو اور مسلمان باہم مل جل کر رہتے تھے۔ ۱۹۴۷ سے لے کر اب تک یہاں ایک بار بھی کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔
ایسی حالت میں ۲۳ مئی کا واقعہ کیوں ہوا ۔ ۱۳ مارچ ۱۹۸۸ کو ملیانہ کے تین آدمی ہمارے دفتر میں آئے ۔ نصیر احمد صاحب، افتخار علی صاحب اور آصف اختر صاحب۔ یہ لوگ مذکورہ حادثہ کے دن ملیانہ میں موجود تھے۔ ان سے گفتگو کے دوران جو بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ میرٹھ فساد کے موقع پر اسلام آباد محلہ کے مسلمانوں نے جم کر پولیس کا مقابلہ کیا اور مسلم علاقہ کے ہندوؤں کو نقصان پہنچایا۔ پولیس یہاں کے مسلمانوں کو دبانے میں اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہی تھی ۔ چنانچہ اس نے یہ اسکیم بنائی کہ قریب کے علاقہ (ملیانہ) میں انتقامی کارروائی کرے تاکہ میرٹھ (اسلام آباد) کے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔ حالاں کہ خود ملیانہ کے مسلمانوں نے کسی قسم کی کوئی اشتعال انگیز کارروائی نہیں کی تھی۔ جس وقت ملیانہ میں مسلمانوں کو مارا جارہا تھا اور ان کے گھروں کو جلایا جا رہا تھا، وہاں کے ایک باشندہ اعجاز علی صدیقی نے ایک پولیس افسر سے کہا جو وہاں موجود تھا، آپ ان انسانیلوں سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ پولیس افسر نے جواب دیا : ہم یہاں مسلمانوں کو بچانے کے لئے نہیں آئے ہیں، ہم ان کو سبق دینے کے لئے آئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues