Al-Risala · November 1988 · page 35

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵

ملیا میں جس پے وردی کے ساتھ پولیس نے مسلسل دو گھنٹہ تک گولی چلائی، اس نے عالمی سطح پر ضمیر کو بیدار کیا۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل (لندن) کی مفصل رپورٹ اس سلسلہ میں اخبارات میں آچکی ہے۔ اس رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا ۲۰ نومبر، ۱۹۸) میں بتایا گیا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ذمہ داروں نے اس سلسلہ میں لندن کے ہندوستانی سفارت خانہ سے رابطہ قائم کیا۔ سفارت خانہ نے جواب دیا کہ ۔ ۔۔۔۔۔ یہ یقین کرنے کا معقول سبب موجود ہے کہ سماج دشمن عناصر نے پولیس کے یونیفارم چرا لئے اور ان کو پہن کر گولیاں چلائیں :

There is reason to believe that police uniforms were stolen and used as a disguise by anti-social elements. سفیر ہند کی یہ توجیہہ نہایت عجیب ہے۔ مگر آج کل ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ جہاں اس کی اپنی ذات زد میں آئے وہاں ہر آدمی " سفیر ہند " بن جاتا ہے۔ انسان کو اگر اس کی غلطی یا ددلائی جائے تو اس کو اخذ کرنے کے لئے اس کی عقل عاجز ثابت ہوگی۔ مگر جب اپنی غلطی کی جھوٹی تو جیہہ تلاش کرنا ہو تو ہر آدمی آخری حد تک ذہین بن جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی یہ ذہانت صرف اس کے جرم میں اضافہ کر رہی ہے۔ ایسا آدمی یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ خدا کی عدالت میں اس سے یہ کہا جائے کہ جب تم اپنی غلطی کی تردید کرنے میں اتنے ہوشیار تھے تو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں اتنے بے وقوف کیوں بن گئے۔

میرٹھ کے فساد کی رپورٹوں میں جو الفاظ بار بار اخبارات میں آئے ان میں سے ایک نام " زیدی فارم " کا تھا۔ یہ سید محمد علی زیدی کے نام پر مشہور ہے۔ ہم ان کے مکان پر گئے۔ اتفاق سے موصوف اس وقت موجود نہ تھے۔ ان کی بہن نایاب زیدی سے ملاقات ہوئی یہ ایک معمر خاتون ہیں اور ایم ایس سی اور بے ایڈ کئے ہوئی ہیں۔

خاتون نے بتایا کہ خود نہ زیدی فارم میں کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ البتہ آس پاس میں کچھ واقعات ہوئے۔ محترمہ نایاب زیدی سے میں نے پوچھا کہ اس کا حل کیا ہے۔ ان کا جواب یہ تھا " اس کا حل صرف محبت ہے، اور کچھ نہیں۔ " انھوں نے اپنے مالی رام داس سے ملایا۔ ان کی عمر تقریباً ۶۵ سال ہے۔ وہ زیدی ہاؤس میں بارہ سال سے مالی کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ رام داس

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page