میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۶
مالی بے حد سیدھے سادھے آدمی ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ جو کچھ میرٹھ میں ہوا تو اب کیا کیا جائے کہ پھر ایسا نہ ہو۔ انھوں نے جواب دیا : کہیں ہندوؤں کا زور ہے تو ان کو محبت سے پیار سے رکھیں ؛ یہ سب سے زیادہ صحیح بات ہے جو میرٹھ میں مجھے ایک مالی کی زبان سے سننے کو ملی ، مگر یہی وہ بات ہے جو ہمارے بڑے بڑے عالموں تک کو نہیں معلوم۔
ایک صاحب نے کہا کہ میرٹھ کا فساد پلاننگ کے تحت ہوا۔ یعنی ہندوؤں نے پہلے سے پلان بناکر مسلمانوں کو مارا ۔ انھیں صاحب نے مسلمانوں کی بہادری ثابت کرنے کے لیے یہ بھی کہا کہ پہلے دن جب تک پولیس نہیں آئی تھی مسلمانوں نے زیادہ مارا ۔ مگر جب مسلح پولیس (پی اے سی) آگئی تو مسلمان زیادہ مارے جانے لگے ۔ میں نے کہا کہ اگر پلاننگ یک طرفہ تھی تو مسلمان کیسے اس قابل ہو سکے کہ وہ پہلے دن زیادہ ماریں ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جواب میں تو کچھ نہ کچھ کرنا ہی تھا ۔ میں نے کہا کہ یہ طریقہ سراسر غلط ہے ۔ فریق ثانی اگر بالفرض فساد کی پلاننگ کر رہا ہے تو اس کا مقابلہ جوابی فساد کے ذریعہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کا جواب صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ حکیمانہ تدبیر سے آپ ان کی پلاننگ کو فیل کر دیں ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال کے طور پر غزوہ خندق کے موقع پر عمل فرمایا ۔ فریق ثانی بہت بڑی تعداد میں تیار ہو کر لڑنے کے لئے آرہا تھا ، مگر آپ نے ایک ایسی آڑ قائم کر دی کہ دونوں کے درمیان ٹکراؤ کی عملی صورت ہی ختم ہوگئی۔
حالیہ فسادات کے زمانہ میں مختلف لوگوں نے نہایت طاقتور الفاظ میں فساد کو برا کہاہے اور امن کے ساتھ رہنے کی وکالت کی ہے ۔ مگر میرے نزدیک یہ باتیں عملی طور پر بالکل بے کار ہیں ۔ اس لئے کہ وہ متعین انداز میں نہیں کہی گئی ہیں ۔ وہ " فساد " کے خلاف ہیں نہ کہ " مفسد " کے خلاف۔ مثلاً انڈین ایکسپریس (۳۰ جون ۱۹۸۷) نے اپنے صفحہ پر ایک شخص کا یہ قول نقل کیا : Man's liberty ends, and it ought to end, when that liberty becomes the curse of his neighbours. آدمی کے لئے آزادی کا حق ختم ہو جاتا ہے اور اس کو ختم ہو جانا چاہئے۔ جب کہ یہ آزادی اس کے پڑوسی کے لئے لعنت بن جائے ۔
موجودہ شکل میں جو شخص اس قول کو پڑھے گا وہ اس کو دوسروں پر چسپاں کرے گا اور اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues