Al-Risala · November 1988 · page 37

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۷

آپ کو اس سے الگ کرلے گا۔ اس لئے صرف وہ تنقید مفید ہے جو متعین انداز میں کی جائے۔ اس کی موزوں ترین صورت یہ ہے کہ ہندو اپنے فرقہ کی زیادتی پرانہیں ٹوکے اور مسلمان اپنے فرقہ کی زیادتی پر بولیں۔

یک مسلمان نے کہا کہ مقامی ہندی اخبارات نے میرٹھ کے فساد کو بھڑکانے میں بہت بڑا حصہ لیا۔ انھوں نے ہندوؤں کے نقصانات کا ذکر کیا۔ نام بھی دئے۔ فوٹو بھی دئے ۔ مگر مسلمانوں کے نقصانات کا کوئی بھی ذکر نہیں کیا۔

یہ تنقید بھی کس قدر عجیب ہے۔ مسلمانوں کے تمام اخبارات ایک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کے نقصانات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ ہندوؤں کے نقصان کا کوئی تذکرہ نہیں کرتے۔ یہ بات کسی مسلمان کو غلط نظر نہیں آتی۔ مگر یہی بات جب ہندو اخبار کرے تو وہ فوراً غلط ہو جاتی ہے۔ گو یا اپنے لئے ایک اصول ہے اور غیر کے لئے دوسرا اصول۔ جو لوگ اس قسم کا غیر منصفانہ ذہن رکھتے ہوں ان کے لئے خدا کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔

مسٹر ایس کے چھابڑانے اپنے ایک مطبوعہ خط (ہندوستان ٹائمس ۶ جولائی ۱۹۸۷ء) میں لکھا ہے کہ یہ صرف ملا، پنڈت اور سیاست داں ہیں جنھوں نے ماحول کو خراب کیا ہے: It is only the Mullahs, Pandits and politicians who have spoiled the atmosphere. مجھے مسٹر چھابڑا کی اس بات سے صد فی صد اتفاق ہے۔ مسلم عوام اور ہندو عوام اگر تنہا ہوتے تو یقینی طور پر ان کے درمیان کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہ پیدا ہوتی ۔ لیکن مذہبی اور سیاسی لیڈروں نے سارا معاملہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

میرٹھ میں ہر سال جگناتھ کی رتھ یاترا کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ اس بار یہ جلوس 2 جولائی ۱۹۸۷ء کو نکالا گیا ۔ ٹائمز آف انڈیا کے نامہ نگار مسٹر من نندنانے اس کی رپورٹ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سالانہ رتھ یاترا میں پہلے بمشکل ایک ہزار آدمی شریک ہوتے تھے۔ اس بار نہایت کثرت سے لوگ اس میں شریک ہوئے جن کی تعداد کا اندازہ ۵۰ ہزار سے ایک لاکھ تک کیا گیا ہے۔ رتھ یاترا کمیٹی کے ایک رکن مسٹر ستیہ پر کاش اہلو والیا نے پر فخر طور پر کہا کہ اس بار ہماری رتھ یاترا میں لاکھوں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page