میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۸
آدمی شریک ہوئے۔
جلوس میں تعداد کا یہ اضافہ یقینی طور پر میرٹھ میں موجودہ حالات کی دین پر ہوا ہے۔ یہ مسلمانوں کے جلسہ جلوس کا جواب ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جلسہ اور جلوس کا طریقہ کس طرح مسلمانوں کے لئے بے فائدہ بلکہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (Counter productive) ہے۔ مسلمان اگر جلسہ اور جلوس کا مظاہرہ کریں تو یہ ہندو کے اندر قومی ساکھ کے جذبہ کو ابھارے گا۔ وہ بڑھ چڑھ کر اپنا مظاہرہ کرنا چاہیں گے۔ سوئے ہوئے فتنے بیدار ہوں گے۔ حالات کی نزاکت میں اضافہ ہوگا ہندوؤں کا جلوس بنااد کرنے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنا جلوس بند کر دیں۔ میرٹھ کی کل آبادی تقریباً دس لاکھ ہے۔ اس میں مسلمان 40 یا ۴۵ فی صد تعداد میں آباد ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پچھلے پچاس سال کے اندر میرٹھ میں ، فرقہ وارانہ فسادات ہو چکے ہیں۔ آخری برسوں میں حسب ذیل سال میرٹھ میں فساد کے سال رہے ہیں ۔ ۱۹7۲ ، ۱۹۶۳ ، ۱۹۶۷ ، ۱۹۶۸، ۱۹۷۳ ، ۱۹۸۲ ، ، ۱۹۸۶۔ ۱۹۸۲ کے فساد میں ۳۲ موتیں واقع ہوئی تھیں۔
یہ فسادات ہمیشہ معمولی نادانی سے شروع ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ یہ ہمیشہ چند افراد کی کسی غلط کارروائی سے شروع ہوتے ہیں ۔ تاہم پورا معاشرہ اس کا مجرم قرار پاتا ہے کیوں کہ بقیہ لوگ ہمیشہ اپنے فرقہ کے شرپسند افراد کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ ان کی مذمت نہیں کرتے۔ اس طرح چند لوگ اگر فساد انگیزی کے براہ راست مجرم ہیں تو بقیہ لوگ اس کے بالواسطہ مجرم۔ یہ فساد کس طرح معمولی نادانیوں سے شروع ہوتے ہیں ، اس کو ۱۹۸۲ کے فساد کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔
محلہ شاہ گھاٹ میں ایک چبوترا کا جھگڑا تھا۔ وہاں ایک قبر اور ایک پیپل کا درخت تھا۔ ہندوؤں نے پیپل کو بنیاد بن کر اس کو مندر کی حیثیت دینے کی کوشش کی۔ اور مسلمانوں نے قبر کو بنیاد بن کر یہ دعویٰ کیا کہ یہ کسی بزرگ کا مزار ہے اور وہاں چادر چڑھانے کا مطالبہ کیا۔ یہ جھگڑا بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ 6 ستمبر اور ۵ ستمبر ۱۹۸۲ کی درمیانی رات کو کسی مسلمان نے وہاں کے پجاری کو قتل کر دیا۔ ۶ ستمبر کو جب پجاری کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں فرقہ وارانہ فساد کی آگ بھڑک اٹھی اور سارا شہر اس کی لپیٹ میں آگیا۔
بیسیوں مسلمان قتل ہوئے۔ ہزاروں گھر لوٹے اور جلائے گئے۔ کروڑوں روپے کا مالی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues