میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۹
نقصان ہوا (ا الجمعیتہ دہلی ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۲)
سردھنا کے الیکٹریشن انعام الحق صاحب (پیدائش ۱۹۵۸) سے ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ کو ملاقات ہوئی ۔ میں نے پوچھا کہ آپ میرٹھ کے علاقہ میں رہتے ہیں۔ یہ بتائیے کہ میرٹھ میں اتنا زیادہ فساد کیوں ہوتا ہے۔ ۴۷ سے 1987 تک میرٹھ میں، فرقہ وارانہ فساد ہو چکے ہیں ۔ ایسا کہیں اور نہیں ہوا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ۔
انھوں نے کہا : میرٹھ کا آدمی دبلو نہیں ہے ۔ یعنی ایک کی بات دوسرے کو برداشت نہیں۔ یہاں تک کہ اگر ہم کسی کو سمجھائیں تو وہ لڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم کیوں ہیں۔ چنانچہ وہاں اگر ایک مسلمان اور ایک ہندو میں کسی بات پر لڑائی ہو جائے تو وہ دو آدمی کی لڑائی نہیں رہتی ۔ وہ فوراً ہندو مسلم لڑائی بن جاتی ہے۔ اسی لئے میرٹھ تباہ ہے۔ میرٹھ میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بار بار کمیونسٹ کا لفظ بولتے تھے۔ "کمیونسٹوں نے یہ سب کرایا ہے" انھوں نے کہا۔ میں نے جاننا چاہا کہ کیا یہاں کمیونزم کا زور ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں کمیونزم کا یا کمیونسٹوں کا کوئی اثر نہیں۔ آخر کار کافی دیر کے بعد سمجھ میں آیا کہ وہ صاحب کمیونسٹ کا لفظ کمیونسٹ (فرقہ پرست) کے معنی میں بول رہے تھے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے مسلمان تعلیم میں کتنا پیچھے ہیں۔ ہم نے یہاں بہت سے مسلمانوں سے ملاقات کی اور ان سے گفتگو کی مگر بہت کم ایسے افراد ملے جو باشعور ہوں اور واقعی طور پر معاملات کو سمجھتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کا اصل مسئلہ ہند و تعصب یا ہندو فرقہ پرستی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کا تعلیم میں پیچھے ہونا ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت جاہل یا نیم خواندہ ہے۔ وہ کسی معاملہ میں گہرائی کے ساتھ رائے قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ حتیٰ کہ یہاں کے لیڈر بھی اتنے ہی بے شعور ہیں جتنا کہ یہاں کے عوام۔ جب کسی قوم کی اکثریت جاہل ہو تو اس کے تعلیم یافتہ افراد بھی نیم تعلیم یافتہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
میرٹھ کے ریلیف کی اپیلوں پر مسلمانوں نے کروڑوں روپے دئے ہیں۔ لیکن اگر میرٹھ کے مسلمانوں کو باشعور اور تعلیم یافتہ بنانے کا منصوبہ لے کر اٹھئے، تو نہ ریلیف فنڈ کھولنے والوں کو اس سے کوئی دلچسپی ہوگی اور نہ ریلیف میں بڑی بڑی رقمیں دینے والوں کو۔ قومی مصیبت کے لئے متحرک
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues