میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰
ہونا اور قومی تعمیر کے لئے متحرک نہ ہونا زوال کی خاص علامتوں میں سے ہے۔ اور زوال کی اس قسم میں مسلمان پوری طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔
علاء الدین صاحب (عمر ۳۴ سال) میرٹھ کے محلہ کوٹلہ میں رتے ہیں۔ ان کی وہاں پان کی دکان ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فساد کے بعد جب شہر میں کر فیونافذ ہوا تو لوگوں کا گھر سے نکلنا بند ہو گیا۔ ہم لوگ اپنی گلی میں بھی باہر نہیں آ سکتے تھے۔ مگر ایک معمولی خوش تدبیری نے ہمارے لئے کر فیو کو آسان بنا دیا۔
انھوں نے بتایا کہ ایک روز پی اے سی والے ہماری گلی کے اندر داخل ہوئے۔ اس وقت بہت سے لوگ گھروں سے باہر نکل کر گلی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ پی اے سی والوں نے کہا کہ تم لوگ باہر کیوں بیٹھے ہو ۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہاں سخت کر فیولگا ہوا ہے۔ محلہ والوں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا، بلکہ نرمی کے ساتھ انھیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ہم لوگ ابھی گھروں کے اندر چلے جاتے ہیں۔ مگر جب آپ ہمارے محلہ میں آگئے ہیں تو ہماری طرف سے کچھ چائے پانی تو قبول کر لیجئے۔ اس کے بعد محلہ والوں نے ان کی تواضع کی۔ تواضع سے فارغ ہو کر جب پی اے سی والے باہر جانے لگے تو انھوں نے کہا : آپ لوگ باہر رہنا چاہتے ہو تو رہ ہو ، البتہ دیکھو دنگا فساد مت کرنا۔ محلہ کوٹلہ کے لوگوں نے اس طرح کئی بار پی اے سی والوں کی تواضع کی اور ان کے محلہ میں پی اے سی کا رویہ بہت نرم رہا۔ عین فساد کے زمانہ میں اس طرح کے اور بھی کئی واقعات میرٹھ میں ہوئے۔ مثال کے طور پر متین صدیقی صاحب کا تجربہ بھی اسی قسم کا تھا۔ وہ خیر نگر (ٹیلی فون ۳۵۳۱) میں رہتے ہیں۔ ان کے سامنے کی سڑک پر پی اے سی کا کیمپ تھا۔ یہ گرمی کا زمانہ تھا۔ ایک روز پی اے سی والوں نے متین صدیقی صاحب کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پانی مانگا۔ انھوں نے فوراً ٹھنڈے پانی کی بوتل اور گلاس بھیج دیا۔ اس طرح بار بار وہ لوگ ان کے یہاں سے ٹھنڈا پانی لیتے رہے۔ اس کے بعد جب کرفیو زیادہ سخت ہوا تو اب پی اے سی والوں کی باری تھی۔ ایک روز دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ انھوں نے دروازہ کھولا تو پولیس کا آدمی ایک بنٹی (بالٹی) دودھ لئے ہوئے کھڑا تھا۔ اسی طرح وہ انھیں سبزی وغیرہ پہنچاتا رہا۔ متین صدیقی صاحب نے قیمت دینا چاہا تو انھوں نے قیمت لینے سے انکار کر دیا۔
یہ اسی میرٹھ کے واقعات ہیں جہاں کے بارہ میں مسلم لیڈر اور مسلم اخبارات نے صرف پولیس کے ظلم اور تشدد
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues