Cost of a riot
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲
اگر ہندو اور مسلمان ان باتوں پر جذبات سے الگ ہو کر غور کریں اور ان تجاویز کو مثبت طور پر لیں تو برصغیر میں ایک عظیم اتحاد کی زمین تیار ہو سکتی ہے۔ یہ تمام انسانیت کے لئے ایک عظیم دن ہوگا۔ اخبار پرتاپ (دہلی) اپنی جارحانہ فرقہ پرستی کے لئے کافی بدنام رہا ہے۔ مگر حالیہ فسادات کے بعد وہ بھی تڑپ اٹھاہے۔ ایڈیٹر پرتاپ مسٹر انل نریندر نے اپنے ایک مفصل اداریہ میں ابتداً بابری مسجد کے تین حل پیش کئے ہیں۔ (۱) مسجد اور مندر دونوں ساتھ ساتھ رہیں (۲) تاریخی ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کیا جائے (۳) بابری مسجد کی عمارت کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا جائے۔ اس کے بعد وہ اپنے اداریہ میں لکھتے ہیں:
" اگر مندرجہ بالا تینوں راستوں میں سے ایک بھی راستہ دونوں کو قبول نہ ہو تو میں ہاتھ جوڑ کر اپنے ہندو بھائیوں سے درخواست کروں گا کہ اپنی خاطر، اپنے دیش کی خاطر آپ یہ قبول کر لیں کہ اس جگہ پر پھر سے تالا لگا دیا جائے اور اسے اسی حالت میں پہنچا دیا جائے جہاں وہ یکم فروری ۱۹۸۶ء کو جج پانڈے کے فیصلے سے پہلے تھی۔ میں جانتا ہوں کہ میرے اس سمجھاؤ سے میرے کئی ہندو بھائی متفق نہ ہوں گے لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ دیش کی خاطر ایکنا کی خاطر، آخر کچھ قربانی دینی ہی پڑے گی۔ کب تک ہم اپنے ہندو بھائیوں کو دنگوں کی آگ میں تباہ برباد ہوتے دیکھتے رہیں گے۔ کیا تین سو کروڑ کا نقصان کافی نہیں؟ کتنی جانیں گنوانی پڑیں گی؟ کتنے کروڑ کا مزید نقصان برداشت کرنا ہو گا اس ایک جگہ کے لئے" (پرتاپ یکم جون ۱۹۸۷ء)
انڈین ایکسپریس (یکم جون ۱۹۸۷ء) نے دہلی کے فساد کے بارہ میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے:
Cost of a riot
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی میں ۲۲ مئی، ۱۹۸۷ کو جو فساد شروع ہوا، اس میں جو انسانی جانیں ضائع ہوئیں، ان کے نقصان کا تو کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس سلسلہ میں ہونے والے مالی نقصان کا اندازہ ایک حد تک کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹر کا کہنا ہے کہ وہ پرانی دہلی کے بڑے بڑے تاجروں سے ملا اور یہ اندازہ کرنے کی کوشش کی کہ اس فساد کے نتیجہ میں جب کرفیو نافذ ہوا اور تقریباً تین ہفتے کے لئے ہول سیل مارکیٹ بند رہا تو اس سے انہیں کیا نقصان
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues