قربانی اسلام میں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰
قربانی اسلام میں
حج ایک عالمی اور اجتماعی عبادت ہے۔ اس کی تاریخیں قمری مہینہ کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ حج کے مراسم مکہ اور اس کے آس پاس کے مقامات پر پانچ دن کے اندر، ۸ ذی الحجہ سے ۱۲ ذی الحجہ تک ادا کئے جاتے ہیں۔ اس دوران دس ذی الحجہ کو منیٰ میں قربانی کی جاتی ہے۔ جانور کو ذبح کرتے ہوئے جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے:
اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَالسَّمَاوَاتِ میں نے یکسو ہوکر اپنا چہرہ اس ذات کی طرف پھیرلیا وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ اور اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُکِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ە لَا شَرِيْکَ لَهُ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ سب اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اَللّٰهُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔ بِسْمِ اللّٰهِ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیاہے۔ اَللّٰهُ اَکْبَرُ اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ!
یہ تیرا ہی دیا ہوا ہے اور تیرے ہی لئے ہے۔ اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔
اس دعا میں وہ مقصد پوری طرح جھلک رہا ہے جس کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جانور کو ذبح کرنا محض ایک علامتی واقعہ ہے۔ اصل چیز جو حاجی سے یا صاحبِ استر بانی سے مطلوب ہے وہ اس کی اپنی قربانی ہے۔ اصل مقصود ذاتی ذبیحہ ہے ، جانور کا ذبیحہ تو صرف ایک ظاہری علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
ذاتی ذبیحہ یا ذاتی قربانی سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد وہ انسان بننا ہے جس کو مذکورہ دعا میں حنیف اور مسلم کہا گیا ہے۔ یعنی سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر پوری طرح تابع دار اور فرماں بردار بن جانا۔ اپنی خواہش کو رہنما بنانے کے بجائے خدا کے حکم کو اپنا رہ نما بنانا۔ اپنی چیز کو اپنا کسب سمجھنے کے بجائے اس کو خدا کا عطیہ سمجھنا۔ یہی اسلام (حوالگی) قربانی کی اصل روح اور
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues