Al-Risala · December 1988 · page 21

قربانی اسلام میں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱

اس کی اصل اسپرٹ ہے۔ کسی شخص کی قربانی اسی وقت قربانی ہے جب کہ قربانی سے اس کے اندر یہ روح پیدا ہو جائے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ کو جانور کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا۔ اللہ کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے (الحج ، 27)

خوراک ہر آدمی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ آدمی اس دنیا میں کھائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی خوراک کو قربانی کے ذریعہ ایک بہت بڑے سبق میں ڈھال دیا گیا ہے۔ ذی الحجہ میں خدا کے نام پر جو جانور ذبح کیا جاتا ہے ، وہ گویا وہی جانور ہے جس کو عام حالات میں بھی ذبح کر کے آدمی اپنی خوراک بناتا ہے۔ مگر حج کی مقدس عبادت کے ساتھ اس کو جوڑ کر اس بات کے سبق کا ذریعہ بنا دیا گیا کہ جس طرح تم جانور کو قربان کرتے ہو ، اسی طرح تمہیں اپنے آپ کو قربان کرنا ہے۔ قربانی کے جانور کے گوشت کو صاحبِ قربانی خود کھاتا ہے اور دوسروں کو کھلاتا ہے۔ اور اگر وہ مقدار میں زیادہ ہو تو اجازت ہے کہ اس کو آئندہ استعمال کے لئے محفوظ کر لیا جائے۔ قربانی کی ظاہری صورت تو جانور کو ذبح کرنا ہے مگر اس کی روح اور اس کی اسپرٹ یہ ہے کہ اعلیٰ انسانی تقاضوں کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا جائے۔ مقصد یا آدرش کی راہ میں اپنے آپ کو فنا کر دیا جائے۔ ہر چیز کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے اور ایک اس کی اندرونی اسپرٹ ہوتی ہے۔ یہی معاملہ قربانی کا ہے۔ اس کی ظاہری صورت ذبیحہ ہے ، اور اس کی اصل اسپرٹ قربانی ہے۔ غور کیجئے تو ایک صحت مند سماج کو بنانے کے لئے واحد سب سے بڑی چیز جو درکار ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کے افراد کے اندر قربانی کی اسپرٹ زندہ ہو۔ افراد کی قربانی پر ہی سماج اور قوم کو زندگی ملتی ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو قربانی کے ذریعہ صاحب قربانی کو دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال خود اس حکم کے اندر موجود ہے جو سفرِ حج کے دوران حاجی کو دیا گیا ہے۔ قرآن میں حکم ہوا ہے کہ جب حج کے لئے نکلو تو جدال نہ کرو ( البقرہ ، ۱۹۷ ) یعنی سفر کے دوران تمہارا سابقہ جن لوگوں سے پیش آتا ہے ان سے جھگڑا اور تکرار نہ کرو۔ یہ ظاہر ہے کہ کوئی شخص خواہ مخواہ کسی سے جھگڑا اور تکرار نہیں کرتا۔ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات ہمیشہ رد عمل کے طور پر پیش آتے ہیں۔ یعنی ایک ساتھی کی طرف سے کوئی قابلِ شکایت بات پیش آئی ، اس پر دوسرا ساتھی بگڑ کر اس سے لڑنے لگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page