Al-Risala · December 1988 · page 22

قربانی اسلام میں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲

اس حقیقت کو ذہن میں رکھیں تو مذکورہ حکم کا مطلب یہ ہے کہ قابل شکایت بات پیش آنے کے باوجود جھگڑا نہ کرو۔ یہ اعلیٰ اخلاق کی بات ہے، اور اس قسم کا اعلیٰ اخلاق قربانی کے بغیر ممکن نہیں، آدمی جب اپنے اندر اٹھنے والے جوابی اشتعال کو دباتا ہے، وہ اپنے منفی جذبات کو قربان کر دیتا ہے تب جاکر یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کی قابل شکایت بات پر اس سے جدال نہ کرے۔ یہ قربانی ہی وہ زمین ہے جس پر وہ اخلاق قائم ہوتا ہے جو حاجی سے مطلوب ہے۔

فرد کے جذبات کی یہی قربانی صحت مند سماج بنانے کی واحد تدبیر ہے۔ جب بہت سے انسان مل کر رہتے ہیں تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایک کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکراتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر لوگ جواب اور رد عمل کا طریقہ اختیار کریں تو پورا سماج خلفشار کا شکار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سماجی نظام کو بہتر حالت پر باقی رکھنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں برداشت سے کام لیں جس کا دوسرا نام جذبات کی قربانی ہے۔ یعنی آدمی شکایت کو نظر انداز کرے۔ وہ ناگواری کو بھول کے خانہ میں ڈال دے۔ وہ اس طرح کے معاملات میں صبر و ضبط کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ جواب اور رد عمل کا۔ قربانی کا سلوک ہی بہتر سماج کے قیام کا واحد ضامن ہے۔ جس سماج کے افراد میں برداشت اور قربانی کا مادہ نہ ہو، اس سماج میں کبھی امن اور انصاف کا ماحول قائم نہیں ہو سکتا۔ افراد کی قربانی سماج کو زندگی عطا کرتی ہے۔ جس سماج کے افراد قربانی والی روش پر راضی نہ ہوں، اس سماج کو اس دنیا میں زندگی اور ترقی کی نعمت بھی نہیں مل سکتی۔ قربانی کا طریقہ ہر مذہب میں رائج رہا ہے۔ یہ ایک مذہبی رسم ہے جس میں کسی چیز کو خدا کی نذر کیا جاتا ہے تاکہ اس کا تقرب اور وسیلہ حاصل کیا جائے۔ یہ طریقہ ہر مذہب میں اور ہر دور میں پایا جاتا رہا ہے۔ یہ خدائے کبیر کے سامنے انسان صغیر کا نذرانہ ہے۔ آخری چیز جو کسی کے سامنے پیش کی جائے وہ جان ہے۔ انسان جب خدا کی عظمت سے سرشار ہوتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اپنی جان اس کے اوپر نچھاور کر دے۔ اس موقع پر گو یا اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی عنایت سے آدمی کی جان کے فدیہ کے طور پر جانور کی قربانی کو قبول کر لیتا ہے۔ اور انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ زندہ رہ کر دنیا میں اعلیٰ مقصد کے لئے کام کرے۔ وہ اپنی سرفروشی کے جذ بات کو تعمیری راہوں کی طرف موڑ دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page