Al-Risala · December 1988 · page 24

غلط بیانی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴

غلط بیانی

انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس (۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸) میں اس کے ایڈیٹر مسٹر آرن شوری کے قلم سے ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے ۔ اس کی سنسنی خیز سرخی یہ ہے ۔ مگر خود آیات کے بارے میں کیا :

But what about the verses themselves?

اس مضمون میں کئی باتیں کہی گئی ہیں ۔ تاہم دوسری باتوں کو چھوڑتے ہوئے ہم اس کے صرف اس حصہ کے بارے میں کچھ عرض کریں گے جس کا تعلق براہ راست طور پر قرآن سے ہے ۔ اس حصہ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (Satanic Verses) پر حکومت نے جو پابندی لگائی ہے وہ اس لیے لگائی ہے کہ اس سے ایک فرقہ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ۔ اس منطق سے خود قرآن پر بھی پابندی لگائی جانی چاہیے کیوں کہ اس میں بھی ایسی آیتیں موجود ہیں جن سے دوسرے فرقوں کے لوگوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں یا مجروح ہوسکتے ہیں ۔

یہ آیتیں کیا ہیں ۔ یہ آیتیں وہ ہیں جو جنگ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ آرن شوری نے اس قسم کی کچھ آیتوں کو نقل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ کافروں کو مارو ، انہیں قتل کرو ۔ اس طرح کی آیتیں واضح طور پر غیر مسلموں کے جذبات کو مجروح کرنے والی ہیں ۔ اس لیے ان کے خیال کے مطابق ، خود قرآن پر بھی پابندی لگنا ضروری ہے ۔ آرن شوری نے یہ بات آزادانہ تحقیق اور عقلی اظہار خیال (Rational discourse) کے نام پر کی ہے ۔ مگر زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ اپنی اس بات کو خود ساختہ الزام یا غلط بیانی (Rational falsification) کا نام دیتے ۔ کیوں کہ انھوں نے قرآن کی جو چند آیتیں پیش کی ہیں وہ سب سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کی ہیں ۔ اور اس طرح ان سے ایک ایسا خود ساختہ مفہوم نکالنے کی کوشش کی ہے جو خود آیتوں کے اندر موجود نہیں ۔ یہاں ہم نمونے کے طور پر ان کے پیش کردہ حوالوں میں سے دو بنیادی حوالوں کا ذکر کریں گے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page