But what about the verses themselves?
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵
سورۃ البقرہ کی دو آیتوں کے جزئی حصہ کا ترجمہ (انگریزی میں) انھوں نے اس طرح نقل کیا ہے : اور ان کو نکالو جس طرح انھوں نے تم کو نکالا ہے ، اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے (۱۹۱) اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے (۱۹۳) اس طرح جنگ سے متعلق چند آیتیں نقل کرنے کے بعد انھوں نے سورہ الاحزاب کی ایک آیت کا ترجمہ (انگریزی میں) اس طرح دیا ہے : اور کسی مومن اور مومنہ کے لیے گنجائش نہیں جب کہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دیدیں کہ پھر ان کو اس کام میں کوئی اختیار باقی رہے ، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے گا تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا ( ۳۶ ) اس طرح کے کچھ اقتباسات نقل کر کے مضمون میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن غیرمسلموں کو مارنے اور انھیں قتل کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور جب خدا کا حکم آجائے تو قرآن کے مطابق ، مومنین قرآن پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بے چون و چرا اس کی تعمیل کریں۔ یعنی تلوار لے کر اٹھیں اور غیر مسلموں کو ایک طرف سے مارنا شروع کردیں ۔
ارن شوریٰ کی اس لغو تشریح کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ سراسر ایک خود ساختہ تشریح ہے جو ناقص اقتباسات کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ یہ بات اس وقت نہایت آسانی سے واضح ہو جاتی ہے جب کہ مذکورہ آیات کو ان کے سیاق (Context) میں رکھ کر دیکھا جائے۔ ۱۔ سب سے پہلے سورۃ البقرہ کو لیجئے۔ اس کے جس حصہ سے مذکورہ الفاظ لیے گیے ہیں ، اس پورے حصہ کا ترجمہ یہ ہے :
اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں ، اور زیادتی نہ کرو ، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور ان کو قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور ان کو نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے ۔ اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے ، اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں ، پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان سے جنگ کرو ، یہی سزا ہے انکار کرنے والوں کی۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ (Persecution) باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اس کے بعد سختی نہیں ہے مگر ظالموں پر (۱۹۰-۱۹۳)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues