But what about the verses themselves?
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶
مذکورہ آیت میں " ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں " ( وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین يُقَاتِلُوْنَكُمْ) ) کے الفاظ ہیں ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں دفاع (Defence) کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ جنگ کا ۔ یعنی یہ کوئی مطلق یا عمومی ہدایت نہیں ہے ، بلکہ اس کا تعلق اس ہنگامی صورت حال سے ہے جب کہ کچھ لوگوں نے جارحیت کا آغاز کر کے اہلِ ایمان کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہو ۔ گویا کہ یہ دفاع کی آیت ہے نہ کہ قتال کی آیت ۔ آیت کے اس ٹکڑے کا صحیح انگریزی ترجمہ یہ ہوگا :
And fight in the way of God those who fight you (2:190)
اب مسٹر آرن شوری یا ان کے ہم خیال لوگ بتائیں کہ دنیا کا کون سا قانون یا کون سا بین الاقوامی رواج ہے جو دفاع کو قابلِ اعتراض قرار دیتا ہے ۔ مسٹر آرن شوری کو اگر ہندوستان کا پرائم منسٹر بنا دیا جائے تو کیا وہ ایسا کریں گے کہ وزارت دفاع کا شعبہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیں ۔ کیا وہ بری، بحری، اور ہوائی افواج کے تمام لوگوں کو ریٹائر کر کے گھر بھیج دیں گے ۔ ملک کے بچاؤ کے لیے جو ہتھیار جمع کیے گئے ہیں ان کو وہ بحرِ ہند میں پھینکوا دیں گے اور ملک میں فوجی سامان تیار کرنے کے جتنے کارخانے ہیں ان سب کو تبدیل کر کے انھیں کھیل اور تفریح کا کلب بنا دیں گے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے اور یقیناً نہیں کریں گے تو انھیں کیا حق ہے کہ قرآن کے ایک ایسے حکم پر اعتراض کریں جو دنیا کے تمام قوانین اور تمام بین الاقوامی رواج کے مطابق عین درست ہے اور مسلمہ طور پر ایک جائز حق ہے ۔ یعنی جارحانہ کارروائی کے خلاف دفاع کا حق ۔ ۲۔ اب دوسری سورہ ( الاحزاب ) کے اقتباس کو لیجیے ۔ اس آیت کا پورا ترجمہ یہ ہے : اور کسی مومن مرد یا کسی مومن عورت کے لیے گنجائش نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کر دیں تو پھر ان کے لیے اس میں اختیار باقی رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا ( ۳۶ )
سورہ الاحزاب کی یہ آیت جس سلسلہ بیان میں آئی ہے ، اس کا قطعا کوئی تعلق جنگ سے نہیں ہے ۔ یہ آیت در اصل ایک معاشرتی اصلاح کے ذیل میں نازل ہوئی ہے ۔ اس کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues