Al-Risala · February 1988 · page 10

آدمی کی جانچ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۰

آدمی کی جانچ

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ یہاں ظای چیزوں کو سامنے رکھ کر اصل حقیقتوں کو پردہ کے پیچھے چھپا دیا گیا ہے ۔ اب آدمی کی جانچ یہ ہے کہ وہ ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچ جائے ۔ وہ شہود سے بلند ہو کر غیب کو دیکھ لے ۔ وہ چھپی ہوئی حقیقتوں کو اس طرح جان لے جیسے کہ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی حالت میں موجود ہیں ۔ ہمارے سامنے ایک پردہ پڑا ہوا ہے ۔ اور آدمی کا امتحان اس میں ہے کہ کون پردہ کو پھاڑ کر پردہ کے دوسری طرف دیکھ لیتا ہے اور کون پردہ کے اُس پار دیکھنے میں کامیاب نہیں ہوتا ۔

آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ ظاہر میں الجھے بغیر باطن تک پہنچ جائے ــــــــــ ایک چیز جو بظاہر خرید کر مل رہی ہے اس کو بطور عطیہ ملنے والی چیز سمجھنا ، ایک چیز جو بازار سے مل رہی ہے ، اس کو کائناتی خزانہ سے ملنے والی چیز سمجھنا ، ایک چیز جو بظاہر ہر انسان سے مل رہی ہے اس کو خدا سے ملنے والی چیز سمجھنا ، اسی کا نام ایمان بالغیب ہے ۔ اور وہی شخص صاحب معرفت ہے جس ، کو ایمان بالغیب کا یہ درجہ حاصل ہو جائے ۔

جینے کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ہے اندھا بن کر جینا ، ایک ہے آنکھ والا بن کر جینا ۔ موجودہ دنیا میں یہی امتحان ہے کہ کون ، شخص کس طرح جیتا ہے ۔ جو شخص آج کی امتحان گاہ میں اندھا بن کر جیتے گا وہ آئندہ آنے والی مستقل دنیا میں ہمیشہ اندھا ہو کر بھٹکتا رہے گا ۔ جو شخص آج کی امتحان گاہ میں بینا بن کر جئے گا وہ آئندہ کی دنیا میں آنکھوں والا ہو گا ۔ دنیا کی تمام نعمتیں مزید اضافہ کے ساتھ اس کو ابدی طور پر دے دی جائیں گی ۔ (من كان فى هذه اعمى فهو فى الآخرة اعمى واضل سبیلا)

آپ کھانے کے دستر خوان پر بیٹھے ہیں۔ آپ کے سامنے میز پر دودھ اور گوشت اور پھل رکھا ہوا ہے ۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس کو بس بازار سے خریدی ہوئی چیز سمجھ کر کھانا شروع کر دے ۔ غفلت اور بے فکری کے ساتھ کھا کر ڈکار لے اور پھر دوبارہ اپنے غفلت کے شغلوں میں لگ جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page