آدمی کی جانچ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۱
یہ اندھے شخص کا کھانا ہے ۔ کیوں کہ دودھ اور گوشت اور پھل " بازار سے خریدی ہوئی چیز " نہیں ، وہ قدرت کے عظیم شاہکار ہیں ۔ ساری کائنات کے ناقابلِ بیان عمل کے بعد یہ ممکن ہوا ہے کہ زمین پر دودھ اور پھل اور گوشت موجود ہو اور انسان اس کو کھا کر بھوک مٹائے اور قوت اور زندگی حاصل کرے ۔
دوسرا شخص وہ ہے کہ جب اس کے سامنے دودھ اور گوشت اور پھل آیا تو اس کو دیکھتے ہی اس کے ذہن نے سوچنا شروع کیا۔ اچانک اس پر منکشف ہوا کہ یہ قدرت کے کارخانہ کی مصنوعات ہیں۔ خدا کی زندہ فیکٹری (گائے بھینس) گھاس چرتی ہے اور اس کو دودھ اور گوشت میں تبدیل کرتی ہے۔ درخت زمین سے اور فضا سے مٹی اور پانی اور گیسیں لیتا ہے اور اس کو پھول اور پھل میں تبدیل کرتا ہے۔ پھر اور آگے بڑھ کر جب وہ سوچتا ہے کہ ان فیکٹریوں کا قیام کیسے ممکن ہوا تو اس کے سامنے پوری کائنات کا نظام آجاتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ ایک لا محدود کائنات کھرب ہا کھرب سال تک گردش کرتی رہی تب موجودہ دنیا کا نظام قائم ہوا۔ موجودہ دنیا اپنی تمام وسعتوں کو لیے ہوئے کامل ہم آہنگی کے ساتھ مساعدت کرتی ہے اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی درخت پھل دے اور کوئی جانور دودھ اور گوشت تیار کرے ۔ یہ سب سوچ کر اس کے اندر ایک عجیب تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ دودھ یا گوشت یا پھل اپنے منہ میں ڈالتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی ایک بے پایاں نعمت کو اپنے منہ میں ڈال رہا ہے ۔
ظاہر ہے کہ ان دونوں آدمیوں کا کھانا ایک نہیں ، اس لیے دونوں آدمیوں کا انجام بھی ایک نہیں۔ جس طرح پتھر کھانے والے کا انجام اور پھل کھانے والے کا انجام ایک نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ان دو آدمیوں کا انجام بھی ایک نہیں ہو سکتا جن میں سے ایک نے اندھے پن کے ساتھ کھایا ہو اور دوسرے نے آنکھ والا بن کر کھایا ہو ( قل ھل تستوی الاعمی والبصير وهل تستوى الظلمات والنور)
اندھوں کے لیے دوزخ ہے اور آنکھ والوں کے لیے جنت ۔ آدمی نے جو چیز دنیا میں پائی ہے وہی وہ آخرت میں بھی پائے گا، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues