عُجب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲
عُجب
قال علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ناز اور خود پسندی الاعجاب افة الالباب ۔ عقل کی آفت ہے ۔
قال ابوالدرداء رضی اللہ عنہ : علامة الجهل حضرت ابوالدردارضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین ثلاث ۔ العجب وكثرة المنطق فيما لا يعنيه چیزیں جہالت کی پہچان ہیں۔ فخر و ناز اور وان ينهى عن شئ ویاتیہ ۔ بے فائدہ بولنا اور یہ کہ آدمی خود وہی کرے جس سے وہ دوسروں کو منع کرتا ہو۔
قال مسروق : کفى بالمرء علما ان یخشى اللہ حضرت مسروق تابعی نے کہا : آدمی کے عالم ہونے وكفى بالمرء جهلا ان يعجب بعلمه کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہو۔ اور آدمی کے جاہل ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ اپنے علم پر ناز کرے ۔
فخر اور ناز اور غرور اور خود پسندی یہ سب ایک ہی ذہنی کیفیت کے مختلف نام ہیں۔ عربی میں اسی کو عُجب کہا جاتا ہے۔ عُجب بلاشبہ سب سے بری اخلاقی بیماری ہے ۔ وہ دین اور اخلاق اور انسانیت ہر چیز کی قاتل ہے۔
عُجب کا مریض اپنے آپ کو وہ سمجھتا ہے جو وہ حقیقتاً نہیں ہوتا۔ محدود انسان کا علم بھی ہمیشہ محدود ہوتا ہے۔ بالفرض اگر کوئی شخص تمام انسانی علوم کو جان لے تب بھی وسیع تر کائناتی علم کے مقابلے میں اس کا علم جزئی ہی رہے گا۔ ایسی حالت میں اپنے علم پر ناز کرنا ایک سطحی فعل ہے جو بذات خود علم کی نفی ہے۔
اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ کسی انسان کا عُجب ، اپنے آخری معنی کے اعتبار سے، دانائے کل کے مقابلے میں عُجب ہے ، وہ اللہ کے آگے سرکشی کے ہم معنی ہے۔ اور اللہ کے آگے سرکشی سے زیادہ بڑا جرم بلاشبہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues