نفع بخشی
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۳
نفع بخشی
آج مسلمان ساری دنیا میں بے قیمت ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے بولنے والوں کو سنیے اور ان کے لکھنے والوں کو پڑھیے تو متفقہ طور پر سب کے سب اس کا ایک ہی سبب بتاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اور وہ غیر مسلم اقوام کا تعصب اور ان کا ظلم اور ان کی سازشیں۔ مگر میں اس قسم کی توجیہہ کو بالکل لغو سمجھتا ہوں۔ اس دنیا کا انتظام براہ راست طور پر اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے دنیا کے انتظام کو ہندوؤں یا یہودیوں یا عیسائیوں کے حوالے نہیں کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے المیہ کا ذمہ دار غیر مسلم اقوام کو قرار دینا ایک ایسی بات ہے جو زمین و آسمان میں کہیں جگہ پلنے والی نہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت خدا کے قانون کے تحت ہے نہ کہ انسانی سازشوں کے تحت۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں دو مثالیں دی گئی ہیں۔ ایک، بارش کے بعد ندیوں میں پانی بہنے کی، دوسری، معدنی چیزوں کو صاف کرنے کے لیے انہیں آگ پر تپانے کی۔ دونوں واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ ابتداً ان کے اوپر جھاگ آ جاتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے بعد دیکھنے والے دیکھتے ھیں کہ بے فائدہ جھاگ پھینک دیا گیا یا ہوا میں اڑ گیا اور ان کے نیچے جو نفع بخش چیز تھی (پانی یا مثلاً چاندی) وہ باقی رہ گیا :
فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ پس جو جھاگ ہے وہ سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۔
زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔
( )
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ایک ابدی قانون بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں قوموں کے ساتھ معاملہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ وہ نافع ہیں یا غیر نافع۔ غیر نافع اس دنیا میں "جُفَاء" بن کر رہ جاتا ہے اور نافع کو اس دنیا میں "مُكْثُ" حاصل ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اللہ تعالیٰ کے اسی قانون کی زد میں ہیں۔ آج کی دنیا میں انھوں نے اپنی نفع بخشی کھو دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جفاء (جھاگ) بن کر رہ گئے ہیں، انھیں ساری دنیا میں کہیں بھی مکث (قیام واستحکام) کا درجہ حاصل نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues