رکاوٹیں زمین ہیں
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴
رکاوٹیں زمین ہیں
۲۶ مئی ۱۹۸۷ کو دہلی کے اخبارات نے اپنے پہلے صفحہ پر جو خبریں نمایاں طور پر دیں ان میں سے ایک خبر وہ تھی جو دہلی سینیر سیکنڈری اسکول سرٹیفیکٹ امتحان سے متعلق تھی : Delhi Senior Secondary School Certificate examination, Class XII, 1987 اس امتحان میں جن طالب علموں نے ٹاپ کیا ان میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔ اخبارات کے نمائندوں نے ان ٹاپ کرنے والے طلبہ اور طالبات سے ملاقات کرکے ان کا انٹرویو لیا اور اس کو با تصویر خبر کے طور پر شائع کیا۔
ان ممتاز طالب علموں کے حالات میں ایک نہایت سبق کی بات تھی۔ اکثر ٹاپ کرنے والوں میں مشترک طور پر یہ بات پائی گئی کہ وہ خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نہ تھے۔ در حقیقت ان میں سے کچھ طالب علموں کو سخت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کیوں کہ غریب گھرانوں کا فرد ہونے کی وجہ سے ان کے پاس لکھنے پڑھنے کے لیے مناسب جگہ نہ تھی۔ کتابیں بہت کم تھیں۔ مزید یہ کہ شور و غل ان کے ذہن کو منتشر کرتا رہتا تھا۔ تاہم وہ ان عوامل کو پار کر گئے اور اپنے دل چسپی کے مضمون میں امتیازی نمبر حاصل کیا :
A common thread running the family background of most toppers is that they do not belong to affluent families. In fact, quite a few faced stiff resistance to their academic pursuits due to lack of space and books and noise disturbances. However, they overrode these factors and achieved distinction in their subjects of interest. The Hindustan Times, New Delhi, May 26, 1987 اسباب کی فراوانی آدمی کے اندر بے فکری پیدا کرتی ہے، اور اسباب کی کمی سے آدمی کے اندر فکر مندی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اسباب کی فراوانی آدمی کو بے عملی کی طرف لے جاتی ہے اور اسباب کی کمی عمل کی طرف۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو وہ شخص زیادہ خوش قسمت نظر آئے گا جو اسباب کی کمی کے مسئلہ سے دو چار ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues