Al-Risala · February 1988 · page 22

حکمتِ تدریج

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲

ہوتا ہے کہ احکامِ اسلام کو بیان کرنے کے معاملہ میں ان سے کوئی کمی نہیں کی گئی۔ تمام احکام پوری طرح سنائے جاتے رہے اور بیان کیے جاتے رہے۔ مگر احکام کے عملی مطالبہ کے معاملہ میں ان سے حسب گنجائش رخصت کا اور تدریج کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے :

قال الامام احمد : حدثنا عفان، حدثنا محمد بن مسلمة، عن حميد، عن الحسن، عن عثمان بن أبي العاص، أن وفد ثقيف قدموا على رسول الله صلى الله عليه وســــــــلم فأنزلهم المسجد ليكون ‌أَرَقَّ لقلوبهم ، فاشترطوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم (الا يصلوا) والا يحشروا ولا يعشروا ولا يجبوا ولا يستعمل عليهم غيرهم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لكم الا تحشروا ولا تعشروا ولا يستعمل عليكم غيركم ، ولا خير في دين لا رکوع فيه " ثقيف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آیا۔ آپ نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ وہاں کے ماحول سے ان کے دل نرم ہوں۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی کہ انھیں جہاد کے لیے جمع نہیں کیا جائے گا۔ اور اُن سے عُشر نہیں لیا جائے گا اور ان پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور ان کے اوپر کسی غیر کو حاکم نہیں بنایا جائے گا اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تم سے جہاد میں شرکت کے لیے نہیں کہا جائے گا اور تم پر عُشر نہیں لگایا جائے گا اور تمہارے اوپر کسی غیر کو حاکم نہیں بنایا جائے گا۔ اور اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں اللہ کے آگے جھکنا نہ ہو۔ ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے :

قال ابو داؤد : حدثنا الحسن بن الصباح ، حدثنا اسماعیل بن عبد الكريم ، حدثنی ابراهيم بن عقیل بن معقل بن منبہ ، عن وہب ، سالت جابراً عن شان ثقیف اذ بایعت قال : اشترطت على رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لا صدقة عليها ولا جہاد ، وانہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول بعد ذالك : " يتصدقون ويجاهدون اذا اسلموا "

وہب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے ثقیف کی بابت پوچھا جب کہ انھوں نے بیعت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی کہ ان پر زکوٰۃ نہ ہوگی اور ان

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page