Al-Risala · February 1988 · page 23

حکمتِ تدریج

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۳

پر جہاد نہ ہوگا۔ اور یہ کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط مان لی) اور اس کے بعد انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو آئندہ وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔

اس رخصت یا حکمت تدریج کے لیے کوئی ایک ہی لگابندھا اصول مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا تعلق زیادہ تر حالات سے ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ رخصت برتی جا رہی ہے، یا جن کے ساتھ تدریج کا معاملہ کیا جا رہا ہے، ان کی استعداد اور حالات کی روشنی میں اس کا فیصلہ کیا جائے گا نہ کہ کسی مطلق اصول یا کسی متعین فہرست کی بنیاد پر۔

اس نظریہ کے حق میں ایک ثبوت یہ ہے کہ ثقیف کے ساتھ صدقہ اور جہاد کے معاملہ میں رخصت کا معاملہ اختیار کیا گیا۔ مگر اسی صدقہ اور جہاد کی رخصت ایک اور شخص نے طلب کی تو اس کو اس کی رخصت نہیں دی گئی۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں ۔ عن بشیر بن الخصاصیۃ رضی اللہ عنہ قال ؛ اتیت رسول الله صلى الله عليه وسلم لابايعه فقلت علام تبايعنى يا رسول الله ۔ فمد رسول الله صلى الله عليه وسلم يده فقال : تشهد ان لا اله الا الله وحدہ لا شريك له وتصلي الصلوات الخمس لوقتها وتؤدى الزكوة المفروضة وتصوم رمضان وتحج البيت، وتجاهد في سبيل الله ؛ قلت يا رسول الله، كلاً نطيق الا اثنتين فلا اطيقهما الزكوة، والله مالى الا عشر ذود هُنَّ رسل اهلى وحمولتهن ۔ واما الجهاد فانى رجل جبان، ويزعمون انه من ولى فقد بَاءَ بِغَضَبٍ من الله، واخاف ان حضر القتال ان اخشع بنفسى فافر فابوء بغضب من الله . فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم يده ثم حركها ، ثم قال : " يا بشير ، لا صدقة ولا جهاد ؛ فبم اذن تدخل الجنة ؟ " قلت : يا رسول الله، ابسط يدك ابايعك ، فبسط يده فبايعته عليهن كلهن ۔ كذا فى كنز العمال (۱۳/۷) واخرجه احمد، ورجاله موثقون كما قال الهیثمی (۷۲/۱)

بشیر بن خصاصیہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ بیعت کروں (اور اسلام میں داخل ہو جاؤں) میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ مجھ سے کس چیز پر بیعت لیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page