حکمتِ تدریج
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴
نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اور تم پانچ نمازیں ان کے وقت پر پڑھو، اور تم فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں یہ سب کر سکتا ہوں سوا دو کے، کیوں کہ میں ان دو کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایک، زکوٰۃ۔ خدا کی قسم میرے پاس صرف دس اونٹ اور اونٹنیاں ہیں۔ وہ میرے گھر والوں کیلئے دودھ کا ذریعہ بھی ہیں اور بار برداری کا بھی۔ اور جہاں تک جہاد کا معاملہ ہے تو میں ایک بزدل آدمی ہوں۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص جہاد کے میدان سے پیٹھ پھیرے تو وہ خدا کے غضب کا مستحق ہو جاتا ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہ جب جنگ کا موقع ہو تو میں ڈر جاؤں اور میدان سے بھاگ جاؤں، پھر میں اللہ کے غضب کا مستحق بنوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اے بشیر، نہ صدقہ اور نہ جہاد، پھر تم کیسے جنت میں جاؤ گے۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ سے بیعت کرتا ہوں پھر آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سب چیزوں پر آپ سے بیعت کی۔
قرآن کے متعلق معلوم ہے کہ وہ بیک وقت ایک کامل کثَابَ کی صورت میں نہیں اترا، بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ترتیب وار اترا۔ اس طرح اس کے نزول میں ۲۳ سال لگ گئے۔ قرآن کے اس طرح نازل ہونے کا سبب کیا تھا، اس کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے جو کہ حسب ذیل ہے :
انما نَزَلَ اول ما منزل سورۃ من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار۔ حتی اذا تاب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام۔ ولو نزل اول ما نزل لا تشربوا الخمر لَقَالُوا: لا ندع الخمر ابداً ۔ ولو نزل لا تَزْنُوا، لَقَالُوا: لا ندع الزنا ابداً (بخاری، باب تالیف القرآن)
قرآن میں پہلے وہ مکی سورتیں اتریں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے۔ بیان تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تب حلال اور حرام کے احکام اترے۔ اور اگر پہلے ہی یہ حکم اترتا کہ شراب نہ پیو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر پہلے ہی یہ حکم اترتا کہ زنا نہ کرو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم ہرگز زنا نہ چھوڑیں گے۔
یہاں احکام میں ہمیشہ فہرست مطلوب ہوتی ہے اور نفاذ احکام میں ہمیشہ ترتیب و تدریج۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues