حکمتِ تدریج
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۳
کر کے رکھ دیا ہے۔ ان لوگوں نے اسلام کو سیاسی ٹکراؤ کے ہم معنی بنا دیا۔ جہاں جہاں یہ اسلامی سیاسی فکر بنا لوگ اپنے حکمرانوں کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ اس کے نتیجہ میں حکمرانوں نے انھیں کچلنے کی کوشش کی۔ اب انھوں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ مسلم حکمران اسلام کے دشمن ہیں۔ حالانکہ واقعہ صرف یہ تھا کہ مسلم حکمران اپنے اقتدار کو چیلنج کرنے والوں کے دشمن تھے۔ یہ لوگ اگر غیر سیاسی انداز میں کام کرتے تو اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں کو وہ اپنا معاون پاتے۔ مگر سیاسی انداز میں کام کرنے کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا اور مسلم ملکوں کے تمام بہترین امکانات برباد ہو کر رہ گئے۔ سیاسی قربانیوں سے عملاً قوم کو کچھ نہیں ملتا۔ البتہ سیاسی قربانی دینے والا بعد کی نسلوں کے لئے ہیرو بن جاتا ہے۔ اس انقلابی فکر کے موجودہ حاملین کا حال یہ ہے کہ وہ عملاً دوسروں کی طرح دنیا میں غرق ہو چکے ہیں۔ اب انھیں ”سید قطب “کی طرح قربانی نہیں دینا ہے، البتہ ”سید قطب “کو گلوریفائی کر کے سیاسی اور مادی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
اس اسلامی کانفرنس میں مجموعی طور پر تقریباً چالیس آدمی شریک تھے۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان تھے اور دنیا کے مختلف حصوں سے آئے تھے۔ ان میں اکثریت اسلامی اداروں اور اسلامی تنظیموں کے ذمہ دار حضرات کی تھی۔ تین زبانیں اظہارِ خیال کا ذریعہ تھیں ۔ عربی، انگریزی اور فرانسیسی۔
میں مختلف ملکوں کی اسلامی کانفرنسوں میں شریک ہوا ہوں۔ میرا احساس ہے کہ ہر جگہ لوگوں کی تقریروں کا نمایاں پہلو “دشمنانِ اسلام “کے حملوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ یہ خططات ضد الاسلام و المسلمین ، مُحَاوَلَاتُ الْأَعْدَاءِ ، بس اس قسم کے الفاظ ہر ایک کی زبان پر ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اغیار کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کرنے سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو اسلام کے سایہ رحمت میں لانے کی کوشش کریں۔ ان کا جواب یہ تھا : غیر مسلموں کو اسلام کی طرف لانا بھی ایک کام ہے ، مگر اس سے زیادہ اہم کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو موجودہ اجنبی حملوں سے بچایا جائے ۔ موجودہ مسلمانوں کے فکر پر دفاعی مسائل اتنے زیادہ غالب ہیں کہ وہ دعوتی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے۔ یہی تمام مسلم ملکوں کا حال ہے۔
یہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوتی جو افریقہ سے آئے تھے۔ ان کے یہاں الرساله انگریزی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues