Al-Risala · February 1988 · page 34

Suleimab Amrani Kilemile

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۴

جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کو بہت سے لوگ نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ہرماہ اس کے منتظر رہتے ہیں۔ ایک قاری کا تاثر انہوں نے ان الفاظ میں بتایا : قرأت الكثير من الكتب الاسلامية وكانت لدي استفسارات حول الاسلام ۔ فما وجدت الاجوبة الابعد فترأ أنى لمجلة الرسالة الصادرة من نيودلهي باللغة الانجليزية شریف سالم حسین ، ص ب ۲۸ | مارسیت ، افریقہ ایک اور صاحب سلیمان عمرانی کیلیميلي سے ملاقات ہوئی ۔ وہ دار السلام (تنزانیہ ) سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار میں ایران گیا تھا۔ وہاں مجھے آپ کی کتاب الاسلام بینچدی ملی ۔ اس کو میں تین بار پڑھ چکا ہوں ۔ اس کتاب پر عربی کی یہ مثل صادق آتی ہے : کل اللحم في جوف الفرا - اس کتاب میں اتنی زیادہ باتیں ہیں کہ آدمی ہر بار پڑھنے میں نئی بات پاتا ہے ( من يقرأ كتاب الاسلام يتحدى يستفيد في كل مرة شيئاً جديدا۔ فاذا اقرأ الانسان في المرة الاولى واستفاد شيئاً في المرة الثانية يستفيد شيئاً آخر ، وهكذا د واليك )

Suleimab Amrani Kilemile

P.O. Box 45257, Dar-es-Salam, Tanzania, Africa محمد ارشد الفرحان (کویت ) نے ایک بحث میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو چاہئے کہ مسجدوں کو سیاست سے الگ رکھیں۔ عرب ممالک میں لوگوں نے مساجد کے اندر سیاسی تقریریں شروع کر دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تمام عرب ممالک میں مساجد نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد بند کر دی جاتی ہیں۔ حالانکہ مساجد کو ثقافت اسلامی کا مرکز بننا تھا مگر ان کو سیاسی مرکز بنانے کی کوشش میں مسجد کی یہ دینی حیثیت ہم سے چھن گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو چاہئے کہ ہم بقیہ ملکوں میں ان مساجد کو سیاست سے دور رکھیں تاکہ ان کے ساتھ وہ پیش نہ آئے جو عالم عرب کی مساجد کے ساتھ پیش آچکا ہے (حتى لا يصيب لهذه المساجد ما اصاب في العالم العربي)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page