Al-Risala · February 1988 · page 35

Suleimab Amrani Kilemile

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵

ویلیٹ انڈینیز کے ایک صاحب نے بتایا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تصویر ایک دہشت پسند انسان کی تصویر بن گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار میری ملاقات ایک عیسائی عالم سے ہوئی۔ اس نے ان کی داڑھی اور ٹوپی کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ تھا:

Are you a Muslim ? Yes. Then you are a terrorist. یہاں کے دوران قیام میں کئی بار عربوں کی مجالس کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اسلام کے مختلف فکری پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ ایک مجلس میں میں نے اس بات کی وضاحت کی کہ موجودہ زمانہ میں جہاد کا غلط مفہوم لے لیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان غیر ضروری طور پر دوسروں سے اور خود اپنے حکمرانوں سے ٹکراؤ کر رہے ہیں، اور اس کی وجہ سے نہایت قیمتی وسائل اور مواقع برباد ہورہے ہیں۔

ایک مجلس میں میں نے صلح حدیبیہ کی حکمت کے بارہ میں تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا۔ میری عربی اگرچہ ہندوستانی عربی تھی مگر وہ لوگ بے حد غور کے ساتھ سنتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی ہونے کے باوجود آپ کی زبان ہم کو پسند ہے، کیوں کہ وہ مجرد اسلوب میں ہوتی ہے اور پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے۔ صلح حدیبیہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے میں نے کہا: بَعْدَمَا تَمَّ صلح الحديبية نزلت سورة الفتح وجاء فيها و يهديك صراطاً مستقيماً فكأنَّ هذا الصلح كان هادياً أبدياً بكيفية معاملة الاعداء كى نحقق النصر عليهم - ثمرا نظر كيف كان صلح الحديبية - كان على شُرُوطِ قريش - فهذا الصلح ما حصل الآ بعد ما رضى صلى الله عليه وسلم على شرط أعدائه بطرف واحد - و بتعبير آخر، رضى الرسول صلى الله عليه وسلم بالهزيمة فجاءه الفتح العظيم - فهذا هو سر النجاح في هذا العالم، وفي العصر الحاضر

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page