Muslims and the Science Education
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۵
کے مختلف ملکوں کا سفر کیا۔ اولاً انھوں نے پرتگال (لزبن) میں ہونے والی آل مذاہب کانفرنس میں شرکت کی ۔ اس میں تمام مذاہب کے نوجوان لوگ شریک ہوئے تھے۔ مسٹر عرفان انیس اپنے ساتھ الرساله انگریزی اور اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں لے گئے تھے۔ ان کو انھوں نے وہاں کے شر کاء کو دیا۔ کانفرنس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر مسٹر گوری ینگ (Gary Young) اور سر پرست جارج ایمری (George Emery) کو بھی الرساله انگریزی کی کاپیاں دیں۔ نائجیریا کی ایک مسلم خاتون (فوزیہ کرومی) جو خود بھی ایک انگریزی رسالہ کی ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے الرسالہ کو پسند کرتے ہوئے اس کے مضامین کو اپنے رسالہ میں نقل کرنے کی اجازت حاصل کی۔ جاپانی نومسلم یوسف فوکوئی کو بھی کتابیں دیں۔ مسٹر انیس کانفرنس کے بعد میڈرڈ، لندن، پیرس، ہیم برگ (جرمنی) وغیرہ گئے۔ ہر جگہ انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کرکے اسلامی مرکز کا تعارف کرایا اور انگریزی کتابیں اور الرسالہ (انگریزی) انھیں دیا۔
۷۔ عربی زبان میں اسلامی مرکز کی تقریباً ۲۰ کتابوں کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ عرب علماء عام طور پر اپنی تقریروں اور تحریروں میں ان کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے جدید اسلوب کی بنا پر عرب نوجوانوں کو ان کے مطالعہ کا مشورہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مشہور عرب عالم دکتور یوسف القرضاوی نے اپنی عربی کتاب ثقافة الداعية میں چار عنوانات کے تحت کچھ قابل مطالعہ منتخب کتابوں کی فہرست دی ہے ۔ اس میں انھوں نے پہلے عنوان (في مجال العقيدة والاسس الفكرية) کے تحت صدر اسلامی مرکز کی کتاب الاسلام یتحدیٰ کو بھی پڑھنے کا مشورہ دیا ہے (صفحہ ۹۹)
۸۔ کویت کے ہفتہ وار عربی جریدہ البلاغ (۱۵ ربیع الآخر ۱۴۰۸ھ مطابق ۶ دسمبر ۱۹۸۷) نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو اس عنوان کے ساتھ شائع کیا ہے: لقاء مع المفکر الاسلامی وحید الدین خان - انٹرویو لینے والے ایک فلسطینی عالم ہیں جن کا نام محمد یاسر القضانی ہے۔
۹۔ برابر اطلاعات مل رہی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین الرسالہ میں ایک رجحان
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues