Al-Risala · March 1989 · page 18

پانچ دن

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۱۸

مگر عین اسی وقت قضا و قدر کا یہ فیصلہ ہو رہا تھا کہ نہرو کی زندگی بہت جلد ختم ہونے والی ہے ۔ اور واقعات بتاتے ہیں کہ نہرو کے فیصلے پر قضا و قدر کا فیصلہ غالب آیا ۔

" میری زندگی جلد ختم ہونے والی نہیں " ________ یہی موجودہ دنیا میں ہر آدمی کی نفسیات ہے ۔ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی انداز میں سوچتا ہے ۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ اس کے اور اس کی موت کے درمیان صرف " پانچ دن " کا فاصلہ ہے ۔ مگر ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میں ابھی جلد مرنے والا نہیں ہوں ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ آدمی جس حال میں ہے ، وہ اسی حال میں پڑا رہتا ہے ، وہ اپنی غلطی کی اصلاح نہیں کرتا ۔

ایک شخص غفلت اور سرکشی کی زندگی اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اگر وہ جانے کہ پانچ دن سے زیادہ اس کی سرکشی چلنے والی نہیں تو وہ سرکشی کو بھول کر اطاعت شعار آدمی بن جائے ۔ ایک شخص جھوٹے الفاظ بول کر لوگوں کے درمیان لیڈری کر رہا ہے ۔ اگر وہ جانے کہ پانچ دن کے بعد اس کا سارا بھرم کھل جانے والا ہے تو اس کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جائے اور وہ لیڈری کو چھوڑ کر گوشہ نشین ہو جانے کو پسند کرے ۔ ایک شخص نے دوسرے کے مال پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ اگر وہ جانے کی یہ مال اب میرے پاس صرف پانچ دن تک باقی رہنے والا ہے تو وہ مال اس کے سر پر پہاڑ جیسا بوجھ بن جائے اور وہ ایک لمحہ کا انتظار کیے بغیر اس کو اپنے سر سے اتار پھینکے ۔

ہر آدمی موت کے عین کنارے کھڑا ہوا ہے ، لیکن ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ موت سے بہت دور ہے ۔ یہی غلط فہمی سب سے بڑا فساد ہے ، اور اس غلط فہمی سے نکلنا سب سے بڑی اصلاح ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page