پانچ دن
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹
یہ انسان
لکھنؤ کا ایک قصہ ہے۔ ایک بوڑھی عورت ہاتھ میں پلیٹ لیے ہوئے چوک پر کھڑی تھی اور یہ آواز لگا رہی تھی : کوئی متنجن کھلا دے، کوئی متنجن کھلا دے۔
ایک راہ گیر اس کے قریب سے گزرا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی پلیٹ متنجن سے بھری ہوئی ہے راہ گیر کی سمجھ میں نہ آیا کہ جب اس کے پاس متنجن موجود ہے تو پھر کیوں وہ لوگوں سے متنجن کا سوال کر رہی ہے۔ راہ گیر نے عورت سے کہا کہ ماں، تمہارے پاس تو متنجن خود موجود ہے، پھر تم کس لیے متنجن مانگ رہی ہو۔ عورت نے یہ بات سنی تو بگڑ کر بولی : تم کیسی بات کرتے ہو، متنجن کہیں بالائی کے بغیر بھی کھایا جاتا ہے۔
ایک صاحب نے یہ قصہ سنایا تو اس کو سن کر اچانک میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے سوچا کہ انسان آج بالائی کے بغیر متنجن کھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ کل اس کا حال کیا ہوگا جب کہ متنجن تو درکنار، درخت کی پتیاں بھی نہ ہوں گی جن سے وہ اپنا پیٹ بھرے، اور گڑھے کا پانی بھی نہ ہوگا جس سے وہ اپنی پیاس دور کرے ۔
آج کوئی انسان کم پر راضی نہیں۔ کسی کے پاس چھوٹا مکان ہے تو وہ بڑے مکان پر نظر لگائے ہوئے ہے ۔ کوئی ہزار کما رہا ہے تو وہ لاکھ کی فکر میں ہے ۔ کوئی ممبر ہے وہ صدر بننے کے لیے دوڑ لگا رہا ہے۔ کسی کو ملکی قائد کا درجہ ملا ہے تو وہ انٹرنیشنل قائد بننے کے لیے بے قرار ہے۔ کوئی پیسہ حاصل کر چکا ہے تو اب وہ شہرت اور جاہ حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ کوئی شخص ” سادہ متنجن “ پر راضی نہیں، ہر آدمی ” بالائی والے متنجن" “ کی طرف چھلانگ لگا رہا ہے۔ آدمی اگر جانے کہ عنقریب موت آکر ساری صورت حال کو بدل دے گی ۔ اس کے بعد نہ موجودہ دنیا ہوگی اور نہ موجودہ دنیا کے حالات ، تو اس کی سوچ کچھ سے کچھ ہو جائے ، وہ آج سے زیادہ کل کی فکر کرنے لگے۔ وہ حرص کو چھوڑ کر شکر کرنے والا بن جائے ، وہ خواہشوں کے بجائے ذمہ داریوں کی طرف اپنی ساری توجہ لگا دے۔ اس کا ذہن ذاتی خول سے نکل کر انسانی وسعت کے دائره میں کام کرنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues