Al-Risala · March 1989 · page 20

پانچ دن

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۲۰

ایک آیت

قرآن میں یہود کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ ۔ اور اہل کتاب میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تم اس کے پاس امانت میں بہت سامان رکھ تو وہ فورا اس کو ادا کر دے گا۔ اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تم اس کے پاس امانت میں ایک دینار رکھو دو تو وہ تم کو ادا نہیں کرے گا، آلا یہ کہ تم اس کے سر پر کھڑے ہو جاؤ ( آل عمران ۷۵)

انسانوں میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کے اندر حق اور ناحق کی تمیز پوری طرح زندہ ہو۔ وہ سچ پر قائم ہونا چاہتے ہوں اور جھوٹ سے بھاگنے والے ہوں۔ وہ ہر آن اپنے آپ کو اللہ کی نگرانی میں سمجھتے ہوں۔ یہ با اصول لوگ ہیں۔ وہ اپنے احساس فرض کے تحت ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہیں۔ ان کا حق شناسی کا جذبہ اس کے بغیر مطمئن نہیں ہوتا کہ وہ حق دار کو اس کا حق ادا کریں۔ وہ کسی حال میں حق سے تجاوز کرنے پر راضی نہیں ہوتے ۔

انسانوں کی دوسری قسم وہ ہے جو صرف اپنی خواہش اور اپنے مفاد کو جانتے ہوں ۔ وہ چیزوں کو اس اعتبار سے نہ دیکھیں کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ کیا چیز میرے موافق ہے اور کیا چیز میرے خلاف ۔

ایسے لوگ کبھی حق کی ادائیگی کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ اور اگر کبھی حق کو ادا بھی کرتے ہیں تو احساس فرض کے تحت نہیں بلکہ حالت مجبوری کے تحت ۔

ایک انسان وہ ہے جس کے پاس کوئی چیز بطور امانت رکھی جائے تو وہ اس کو غیر کی ملک سمجھے اور جب مالک تقاضا کرے تو فوراً اصل مالک کو وہ چیز لوٹا دے ۔ یہ معیاری انسان ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسے لوگوں کا بڑا اجر ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے اندر امانت کا احساس پوری طرح زندہ نہ ہو۔ تاہم ابھی وہ سرکشی کی حد پر نہ پہنچا ہو۔ ایسا شخص بھی چیز کو اصل مالک کی طرف لوٹاتا ہے مگر بار بار کے تقاضنے کے بعد۔ دوسرے انسان کی بدترین قسم ہے جس کو غاصب کہا جاتا ہے ۔ نہ صرف یہ کہ وہ چیز کو نہیں لوٹاتا بلکہ جھوٹے دعوے کر کے غیر کی چیز کو اپنی چیز بتاتا ہے ۔ ایسا آدمی گمراہی کی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔ ایسے آدمی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page